ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف ن لیگی کارکنان کا انوکھا احتجاج

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر جون 12:00

ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف ن لیگی کارکنان کا انوکھا احتجاج
سرگودھا (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25جون 2018ء) الیکشن 2018 کی آمد آمد ہے لیکن ٹکٹوں کی تقسیم کا مسئلہ ابھی بھی بنا ہوا ہے۔جب کے ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کے احتاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سرگودھا میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف بطور احتجاج اذانیں دیں۔ اورٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق سرگودھا میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف انوکھا احتجاج کیا۔کارکنوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں اور مسلم لیگ ن کے سابق رکن قومی اسمبلی چودھر ی حامد حمید کی رہائش گاہ کے باہر بطور احتجاج اذانیں دیں۔ کارکنوں نے الزام لگا یا کہ پارٹی قیا دت کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت نظریاتی کارکنوں کو فراموش کر کے مفاد پرستوں کو ٹکٹ جاری کیے گئے۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ مسلم لی ن کے رہنما حامد حمید نے حمزہ شہباز شریف پر پیسے لے کر ٹکٹیں دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا،میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق رکن اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری امور گلگت بلتستان حامد حمید نے پارٹی فیصلے کے خلاف بغاوت کر دی۔ن لیگی رہنما نے حمزہ شہباز شریف پر بھی بڑا الزام عائد کر دیا اور کہا کہ حمزہ شہباز شریف نے ق لیگ کے رہنماڈاکٹر لیاقت کو مبینہ طور پر 2.5 کروڑ روپے لے کر ٹکٹ دیا ہے۔

حامد حمید کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز شریف نے 2.5کروڑ روپے لے کر پرویز مشرف کے ساتھی کو ٹکٹ دیا،ان کا کہنا تھا کہ ورکرز چندہ اکھٹا کریں گے اور پھر حمزہ شہباز سے این اے 90 کا ٹکٹ لے کر رہیں گے۔یاد رہے اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما زعیم قادری بھی حمزہ شہباز پر پیسے لے کر ٹکٹ دینے کا الزم عائد کر چکے ہیں۔