شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت

احتساب عدالت نے نوازشریف اورمریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر جون 12:04

شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔25 جون۔2018ء) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی،در خواست منظوری کے بعد باپ اور بیٹی کو نیب ریفرنسز کی سماعت کے موقع پر حاضری کے پابند نہیں ہوں گے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کیس کی سماعت کی،دوران سماعت نوازشریف کے وکیل نے بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ کی حالت تشویشناک ہے وہ اور مریم نواز عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے، استدعا ہے کہ انہیں حاضری سے 7 روز کا استثنیٰ دیا جائے۔

عدالت نے استدعا قبول کرتے ہو ئے نوازشریف اور ان کی بیٹی کو حاضری سے 3 دن کیلئے مستثنیٰ قرار دے دیا۔

(جاری ہے)

احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جاری ہے جہاں پانچویں روز بھی سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث دلائل دے رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ کیپٹن صفدرعدالت میں موجود ہیں۔۔عدالت میں سماعت کے آغاز پرخواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف اور مریم نواز بیرون ملک ہیں، درخواست جمع کرانی ہے، بیگم کلثوم نوازکی 22 جون کی میڈیکل رپورٹ کے پرنٹ لینے ہیں۔سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ واجد ضیاءکے بیان کے دوسرے حصے پردلائل دوں گا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ تفتیشی افسرکی رائے قابل قبول شہادت نہیں ہے، قطری کے 2 خطوط کا نوازشریف سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، جے آئی ٹی نے 2 خطوط میں تضادات کی بات کی ہے۔۔نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ خطوط میں تضادات کا بتانا جے آئی ٹی کا کام نہیں عدالت کا تھا، واجدضیاءیہ خط توپیش کرسکتے تھے مگرکمنٹس نہیں کرسکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسرکا کیا کام ہے معائنہ کرے یہ عدالت کا کام ہے، ہماری رائے ہے محمد بن جاسم کی ضرورت نہیں ہے۔

احتساب عدالت میں نوازشریف اور مریم نواز کی 7 دن کے لیے حاضری سے اسثنیٰ کی درخواست کی گئی اور عدالت میں بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کی گئی جس پر عدالت نے سابق وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی کو 3 دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ واجد ضیاءنے نواز شریف سے متعلق کچھ نہیں بتایا، الزام ثابت کرنے کے لیے پرائمری یا سیکنڈری شواہد ہوتے ہیں جبکہ سیکنڈری شواہد میں بتانا ہوتا ہے پرائمری شواہد کیوں نہیں پیش کیے۔

قبل ازیں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے داماد اور مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک بندہ یہاں حاضر ہوتا رہے بہترہے۔انہوں نے کہا کہ کلثوم نواز میری بھی ماں ہیں، میرا بھی ان کی تیمارداری کے لیے جانے کو دل کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں، ایک بندہ یہاں احتساب عدالت میں حاضر ہوتا رہے تو بہتر ہے، عدالت اجازت دے گی تو ضرور جاوں گا۔