این اے 95، ایپلٹ ٹریبونل میں عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر فیصلہ محفوظ

عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنے مکمل اثاثے ظاہر کیے اور کچھ چھپایا نہیں بلکہ وضاحت کی ہے، بابر اعوان کا موقف

پیر جون 12:21

این اے 95، ایپلٹ ٹریبونل میں عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر فیصلہ محفوظ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) اپیلٹ ٹریبونل نے این اے 95 سے عمران خان کی آر او فیصلے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا‘ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپیلٹ ٹریبونل میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنے مکمل اثاثے ظاہر کیے اور کچھ چھپایا نہیں بلکہ وضاحت کی ہے۔ پیر کو اپیلٹ ٹریبونل میں این اے 95 میانوالی سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔

جسٹس فیصل زمان پر مشتمل اپیلٹ ٹریبونل نے عمران خان کی اپیل پر سماعت کی جس کے دوران وکیل بابر اعوان نے دلائل دیے۔چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنے مکمل اثاثے ظاہر کیے اور کچھ چھپایا نہیں بلکہ وضاحت کی ہے۔

(جاری ہے)

عمران خان کے وکیل نے وطن پارٹی سمیت 2 فیصلے عدالت میں پیش کیے جب کہ انہوں نے شیخ رشید اور شکیل اعوان کیس کے فیصلے کی کاپی بھی جمع کرائی۔

بابر اعوان نے دلائل کے دوران کہا کہ ریٹرنگ افسر نے حقائق کے برعکس اور تکنیکی بنیاد پر عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے ۔وکیل نے کہا کہ بروقت بیان حلفی جمع نہ کرانے اور اثاثوں کی مالیت ظاہر نہ کرنے کا الزام لگا کر کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔۔عمران خان کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے۔

دوسری جانب عمران خان کے خلاف اعتراض اٹھانے کے جہانداد خان کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ عمران خان کا حلف نامہ اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ نہیں اور ہر صفحے پر عمران خان کے دستخط مختلف ہیں۔ایپلٹ ٹریبونل نے فریقین وکلا کے دلائل سننے کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے این اے 95 میانوالی سے الیکشن لڑنے یا نہ لڑنے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔