عمران خان انتخابی معرکے میں ’اِن‘ یا آؤٹ‘

ریٹرننگ آفیسر نے اہم ترین حلقے کا فیصلہ سنا دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 12:10

عمران خان انتخابی معرکے میں ’اِن‘ یا آؤٹ‘
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 جون 2018ء) : پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 95 میانوالی سے الیکشن لڑنے کے لیے اہل قرار دے دیا گیاہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان این اے 95 میانوالی سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ جسٹس فیصل زمان نے عمران خان کی اپیل پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دئے۔

عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہاکہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنے مکمل اثاثے ظاہر کیے اور کچھ چھپایا نہیں بلکہ وضاحت کی ہے۔ انہوں نے سماعت کے دوران وطن پارٹی سمیت 2 فیصلے عدالت میں پیش کیے ، اورشیخ رشید اور شکیل اعوان کیس کے فیصلے کی کاپی بھی جمع کروائی۔ بابر اعوان نے دلائل کے دوران کہا کہ ریٹرنگ افسر نے حقائق کے برعکس اور تکنیکی بنیاد پر عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے ۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ بروقت بیان حلفی جمع نہ کورانے اور اثاثوں کی مالیت ظاہر نہ کرنے کا الزام لگا کر عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔ عمران خان کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے۔ دوسری جانب عمران خان کے خلاف اعتراض اٹھانے والے جہانداد خان کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ عمران خان کا حلف نامہ اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ نہیں اور ہر صفحے پر ان کے دستخط مختلف ہیں۔

ایپلٹ ٹربیونل نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ واضح رہے کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل دائر کی تھی جس میں کہا گیا کہ آر او نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے۔بروقت بیان حلفی جمع نہ کروانے کے الزام پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔ جس پر جسٹس فیصل زمان نے محفوظ فیصلہ سنایا۔ اور ایپلٹ ٹربیونل نے آر او کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عمران خان کو این اے 95 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔