وزیراعظم سے درخواست کرونگا وہ پانی اور بجلی کے معاملے کو خود دیکھیں۔چیف جسٹس

اسلام آباد کے لوگ پانی کے بغیر تو نہیں رہ سکتے، شہر کی آدی آبادھی پانی سے محروم ہے-ریمارکس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر جون 12:36

وزیراعظم سے درخواست کرونگا وہ پانی اور بجلی کے معاملے کو خود دیکھیں۔چیف ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔25 جون۔2018ء) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ وہ نگران وزیراعظم ناصر الملک سے درخواست کریں گے کہ پانی اور بجلی کے معاملے کو خود دیکھیں۔۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جڑواں شہروں میں پانی کی قلت پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے نگراں حکومت کے حوالے سے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت ابھی تک اپنے بندے پورے نہیں کر سکی، کیا حکومت صرف پانچ وزراءکے ساتھ چل سکتی ہے؟ پانی و بجلی کے امور پر ہنگامی صورتحال میں کام کرنا ہوگا، وزیراعظم سے درخواست کروں گا پانی اور بجلی کے معاملے کو خود دیکھیں، جب تک مسئلے کا حل نہ نکلے مت اٹھیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر بتایا کہ اسلام آباد کی روزانہ کی ضرورت 120ملین گیلن ہے تاہم شہری علاقوں میں 58.71 ملین گیلن روزانہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

سی ڈی اے حکام نے کہا کہ 24 گھنٹے پانی کی فراہمی دیں تو سات روز میں پانی کے ذخائر ختم ہو جائیں۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد کے لوگ پانی کے بغیر تو نہیں رہ سکتے، شہر کی آدی آبادھی پانی سے محروم ہے، منصوبے افسر شاہی کا شکار ہو کر بند بھی ہو جاتے ہیں، رپورٹس آ جاتی ہیں مگر پیش رفت کچھ نہیں ہوتی، ہر ادارہ دوسرے پر ذمہ داری ڈال دیتا ہے، مجھے بتا دیں وفاقی حکومت کیا ہے میں اسے بلا لیتا ہوں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے نے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے، پانی کی قلت کا ذمہ دار کون ہیں اور قلت کو دور کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا، پالیسی پر عمل نہ کرنے والے ذمہ داری پہلے لوگوں پر ڈال دیں گے۔ چیف جسٹس نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر آتشزدگی سے متعلق از خود نوٹس کی بھی سماعت کی۔۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مارگلہ کی پہاڑیوں کے تحفظ کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے 15 دن میں رپورٹ طلب کرلی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر آتشزدگی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 3 دن تک جنگلات میں آگ لگی رہی، سی ڈی اے کے پاس آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے؟۔۔سی ڈی اے حکام کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس آگ بجھانے کے آلات نہیں ہیں، فنڈز مختص ہونے کے بعد آلات خرید لیں گے، جولائی کے تیسرے ہفتے میں آلات خریدنے کے لیے فنڈز مل جائیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیوں نہ مارگلہ ہلز کے تحفظ کے لیے کمیشن تشکیل دے دیں، جو تیز رفتاری سے کام کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرے۔۔چیف جسٹس نے وفاقی محتسب کی سربراہی میں مارگلہ ہلز کے تحفظ کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے حکم دیا کہ 15 روز میں اپنی تجاویز عدالت کو پیش کرے۔ کمیٹی میں سی ڈی اے،، میونسپل کارپوریشن کے نمائندے، کمیٹی میں سی ڈی اے ا ور میونسپل کارپوریشن کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔