شمیم شال نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر کشمیری بچی آصفہ بانو کی عصمت دری اور قتل کے سانحہ کو اجاگر کیا

پیر جون 12:58

جنیوا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) کشمیری خاتون رہنما اورکشمیرتحریک خواتین کی وائس چیئرمین شمیم شال نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے 38ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک اجلا س میں مقبوضہ کشمیرکی موجودہ تشویشناک صورتحال اور جموںکی آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کی بے حرمتی کے معاملے کو اجاگر کیا ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق شمیم شال نے امریکی غیر سرکاری تنظیم ’’وومنز یو این رپورٹ نیٹ ورک‘‘ کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس میں شرکت کی اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ تشویشناک صورتحال ، بھارتی فورسز کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل عام ، پر امن مظاہرین پر پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیاروں کے استعمال اور جموں کے ہندو انتہا پسندوںکی طرف سے آٹھ سالہ کشمیر ی بچی آصفہ بانو کی بے حرمتی اور قتل کے واقعے کو اجاگر کیا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ یہ سب ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں زیر بحث معاملات میں مسئلہ کشمیر سر فہرست ہے اور حال ہی میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنربرائے انسانی حقوق نے کشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے۔یورپی رکن پارلیمنٹ جولی وارڈ نے کشمیر کے متنازعہ خطے میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں متعلق تفصیلی پریزنٹیشن دی۔

اس موقع پر رکن پارلیمنٹ ایلیکس میئر نے کہاکہ یورپی پارلیمان کے برطانوی اراکین اکثر مسئلہ کشمیر پر بات کرنے والے اکیلے اراکین ہوتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ برطانوی اراکین کے ساتھ یورپی پارلیمنٹ کے دیگر ممالک کے اراکین کو بھی مسئلہ کشمیر سے متعلق آگاہ کیا جانا چاہیے ۔ایک غیر سرکاری تنظیم کے ڈائریکٹر آفٹن بیوٹلر نے کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی کوششوں کی تعریف کی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو مسلسل آگاہ رکھنے پر شمیم شال کو انتھک کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا۔

اس موقع پرننھی آصفہ بانو پر ایک مختصر دستاویزی فلم کے ذریعے ہال میں موجود بین الاقوامی انسانی حقوق کے نمائندوں کی توجہ آصفہ بانو کے معاملے کی سنگینی کی جانب مبذول کرائی گئی۔