مسلمان سے شادی پر ہندوخاتون کاپاسپورٹ موضوع بحث،سشما سوراج کا دفاع

بھارتی وزیرخارجہ نے ہندوخاتون کو پاسپورٹ جاری کرنے پر اعتراض کرنیوالوں کو خوب آڑے ہاتھوں لیا

پیر جون 13:17

مسلمان سے شادی پر ہندوخاتون کاپاسپورٹ موضوع بحث،سشما سوراج کا دفاع
نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) بھارت میں ایک مسلمان شخص سے شادی کرنے والی ہندو خاتون کا پاسپورٹ تنازع کا باعث بن گیا اور اس سلسلے میں بھارت کی وزیر خارجہ اور بی جے پی کی اہم رہنما سشما سوراج کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جبکہ سشما سوراج نے قابل اعتراض ٹویٹس کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انھوں نے ایسے چند ٹویٹس کو ری ٹویٹ کیا ہے جس میں ان کے خلاف بدزبانی کی گئی تھی۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جس دوران پاسپورٹ پر تنازع ہوا تھا اس وقت وہ بیرون کے دورے پر تھیں۔

(جاری ہے)

بھارتی ٹی وی کے مطابق انھوں نے لکھاکہ میں 17 سے 23 جون کے درمیان انڈیا سے باہر تھی۔ میری غیر موجودگی میں کیا ہوا مجھے معلوم نہیں۔ بہر حال مجھے چند ٹویٹس سے نوازا گیا ہے۔ ان میں سے بعض کو میں آپ کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں۔اس کے بعد سشما سوراج نے کچھ ٹویٹس کو ری ٹویٹ بھی کیا جن میں ایک کیپٹن سربجیت ڈھلن نامی ٹوئٹر ہینڈل سے 21 جون کو کیا جانے والا ٹویٹ شامل تھا۔اس ٹویٹ میں لکھا تھاکہ وہ (سشما) تقریباً مردہ خاتون ہیں کیونکہ وہ صرف ایک گردے کے سہارے جی رہی ہیں (وہ بھی کسی دوسرے سے مانگا ہوا ہی) اور وہ کسی بھی وقت کام کرنا بند کر سکتا ہے۔