پاکستان سپورٹس بورڈ کمپلیکس کے کوچنگ سینٹرز لیز پر دینے کا فیصلہ

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بورڈ کی تمام سہولیات کو 3سالکیلئے لیز پر دی جائیں گی، ممبر شپ فیس، قومی و بین الاقوامی ایونٹس کے انعقادکیلئے قومی و بین الاقوامی اسپورٹس فیڈریشنز کے ساتھ برابری کی بنیاد پر معاہدے کے جائیں گے

پیر جون 13:56

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) وفاقی حکومت نے پاکستان اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد اور چاروںصوبوں میں واقع کوچنگ سینٹرز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کمرشل بنیادوں پرچلانے کیلئے جامع پلان تشکیل دے دیا ہے۔وزارت بین الصوبائی رابطہ کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد 3سو ایکٹر پر مشتمل پاکستان کے سب سے بڑے اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد کے ساتھ لاہور،، کراچی،، کوئٹہ اور پشاورمیں موجود کوچنگ سینٹرز میں موجود کھیلوں کی سہولیات فٹبال گرانڈز، سوئمنگ پولز، انڈور جمنازیم، فٹنس جم، ایتھلیٹکس ٹریک، بیڈمنٹن ہال کو پبلک پرایٹ پارٹنر شپ کے تحت کمرشل بنیادوں پر چلایا جائے گا اور اس بنیاد پر حاصل ہونیوالی رقم سے پاکستان اسپورٹس کمپلیکس کے معاملات کو چلایا جائے گا جس کا مقصد اداروں کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنانا ہے۔

(جاری ہے)

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بورڈ کی تمام سہولیات کو 3 سال کیلیے لیز پر دی جائیں گی، کمرشل بنیادوں پر سہولیات کی ممبر شپ فیس، قومی و بین الاقوامی ایونٹس کے انعقادکیلیے قومی و بین الاقوامی اسپورٹس فیڈریشنز کے ساتھ برابری کی بنیاد پر معاہدے کے جائیں گے۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اسپورٹس کمپلیکس اور کوچنگ سنٹرز پر سالانہ لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور اسپورٹس کمپلیکس کی عمارت قومی خزانے اور وزارت کے لیے سفید ہاتھی بن گئی ہے، حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ امریکہ،، برطانیہ اور فرانس کی طرز پر کھیلوں کی تمام سہولیات کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کمرشل بنیادوں پر چلایا جائے گا اور بورڈ میں کام کرنیوالے ملازمین کو وفاقی حکومت کی طرف سے تنخواہیں اور مراعات دی جائیں گی۔

وزارت بین الصوبائی رابطہ امور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان اسپورٹس کمپلیکس اور کوچنگ سینٹرز میں عالمی معیار کی سہولیات موجود ہیں لیکن ان کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے، اسپورٹس کمپلیکس میں صرف غیرملکی مقابلوں میں انعقاد سے قبل کھلاڑیوں کے تربیتی کیمپس لگائے جاتے ہیں اور ان کیمپس کے علاوہ اسپورٹس کمپلیکس کی عمارت سفید ہاتھی بن گئی ہے، پی ایس بی کو کمرشل بنیادوں پر چلانے سے وزارت کو خطیر رقم حاصل ہوگی۔