ملکی سیاست کے امیر ترین امیدوار نے ایک نیا سرپرائز دیدیا

آصف زرداری اور نواز شریف تو محل میں رہتے ہیں، مگرکھربوں پتی شخص میاں محمد حسین کہاں رہتا ہے اور اس کے شوق کیا ہیں؟ سب کچھ سامنے آگیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 13:30

ملکی سیاست کے امیر ترین امیدوار نے ایک نیا سرپرائز دیدیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 جون 2018ء) : عام انتخابات 2018ء میں ایک ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے۔ عام انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں نے الیکشن کمشین میں اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ ساتھ بیان حلفی بھی جمع کروائے جس میں اُمیدواروں کی جائیدادوں سے متعلق اہم انکشافات بھی ہوئے۔دو روز قبل عام انتخابات 2018ء میں حصہ لینے والے سب سے امیر اُمیدوار کا نام سامنے آیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مظفر گڑھ کا رہائشی میاں محمد حسین عام انتخابات 2018ء میں حصہ لینے والا امیر ترین اُمیدوار ہے۔ مظفر گڑھ کا رہائشی میاں محمد حسین کھرب پتی اُمیدوار ہے۔میاں محمد حسین کے اثاثوں کی مالیت 4 کھرب اور 3 ارب سے زائد ہے۔میاں محمد حسین قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 182 سے آزاد اُمیدوار کی حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیں گے۔

(جاری ہے)

تاہم اب اس امیر ترین اُمیدوار سے متعلق ایک اور خبر سامنے آئی ہے کہ محمد حسین شیخ المعروف منا شیخ دراصل کنٹینر کا رہائشی ہے۔

قومی اخبار کے مطابق منا شیخ کا دعویٰ ہے کہ 4 کھرب 3ارب 11کروڑ کی جائیداد میں سے بیشتر اس کے مخالفین اس سے ہتھیا چکے ہیں۔ اور ان دنوں وہ چھوٹے سے مکان میں سیلاب متاثرین کے لیے ملنے والے کنٹینرمیں رہنے پر مجبور ہے لیکن جب بھی جائیداد واپس ملی وہ اسے اپنے حلقے کے لوگوں پرخرچ کرنے کے ساتھ ساتھ خاندان میں تقسیم کریں گے۔ 14مرلے کا ڈیرہ اور اس میں موجودرہائشی کنٹینر این ا ے182 کے کھرب پتی اُمیدوار محمد حسین شیخ المعروف منا یشخ کا فی الوقت کُل اثاثہ ہے۔

46 سالہ منا شیخ شادی شدہ آزاداُمیدوار ہیں جو نہ صرف ہرن، مرغابی اور دیگرجانوروں کے شکار کے شوقین ہیں بلکہ کھانا بھی بنانے کا شوق رکھتے ہیں۔ منا شیخ نے کہا کہ جب بھی مجھے اچھے کھانے کی خواہش ہوتی ہے تو خود اپنا کھانا پکا کر خود ہی انجوائے کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی زندگی کا 14واں الیکشن لڑنے والا ہوں، منا شیخ جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام میں سٹی ناظم اور ان کے بھائی نائب ناظم بھی رہ چکے ہیں۔

منا شیخ کا کہنا ہے کہ وہ اب تک کئی مرتبہ قومی اورصوبائی اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن لڑچکے ہیں لیکن معمولی ووٹوں کے فرق سے ہمیشہ ہی ہار جاتے ہیں اور کامیاب نہیں ہو پاتے۔ مناشیخ ک ادعوی ٰ ہے کہ ان کی جائیداد کی مالیت تقریباً 4 کھرب 3ارب 11کروڑ ہے جو کاغذات میں درج کی گئی ہے لیکن ساری جائیداد پر مخالفین نے قبضہ کررکھا ہے اورابھی صرف 4 کروڑ کی اراضی ان کے زیراستعمال ہے۔

منا شیخ کا کہنا ہے کہ جائیداد کا یہ تنازعہ 1929ء سے چلا آرہا ہے اور جائیداد کے تنازعہ پر میں پُر اُمید ہوں کہ زمین مجھے واپس ملے گی اور میں یہ جائیداد اپنے خاندان پر اور حلقے کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کروں گا۔ منا شیخ کے خاندانی ذرائع ان کے کھربوں روپے کے اثاثوں کے دعوے کو شکوک وشبہات سے دیکھتے ہیں لیکن منا شیخ اپنے اثاثوں کا قبضہ حاصل کرکے اپنے خاندان میں انہیں تقسیم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

میاں محمد حسین قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 182 سے آزاد اُمیدوار کی حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیں گے۔اس حلقہ میں میاں محمد حسین کے مد مقابل جمشید دستی اور حنا ربانی کھر ہیں۔ واضح رہے کہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اُمیدواروں کو کاغذات نامزدگی کے ساتھ ساتھ بیان حلفی بھی جمع کروانا ہے ۔ بیان حلفی میں کئی سیاستدانوں کی جائیدادوں سے متعلق انکشاف ہوا تو کسی کی دو شادیوں سے متعلق خبر موصول ہوئی۔

ایک طرف جہاں سیاسی اٗمیدوار انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بیان حلفی جمع کروا رہے ہیں وہیں دوسری جانب عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی کے ساتھ ساتھ بیان حلفی جمع کروانا کئی سیاستدانوں کے لیے درد سر بن گیا ہے جس کے پیش نظر کئی سیاستدانوں نے اپنے کاغذات نامزدگی ہی جمع نہیں کروائے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت تاحیات نااہلی، چھُپی ہوئی آمدن سامنے آنے کا ڈر یا ایف بی آر میں اثاثے منظرعام پر آنے ، نیب میں آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس بن جانے کا خوف یا کچھ اور۔

ایک رپورٹ کے مطابق سال 2013ء کی نسبت سال 2018ء کے عام انتخابات میں کم اُمیدواران میدان میں اُترے ہیں۔ سال 2013ء اور سال رواں 2018ء کے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے اُمیدواروں کے تقابلی جائزہ کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے اُمیدواران کی تعداد میں7 ہزار کی کمی ہوئی ہے ۔ اعدادوشمار کے مطابق 2013ء میں 28 ہزار 302 اُمیدواروں نے کاغذات جمع کروائے جب کہ انتخابات 2018ء کے لیے صرف 21 ہزار 482 اُمیدواروں نے کاغذات جمع کروائے ہیں۔

قومی اسمبلی کے لیے اُمیدواروں کی تعداد 7 ہزار 996 سے کم ہو کر 5 ہزار 473 ہے جب کہ صوبائی اسمبلیوں کے لیے 18 ہزار 825 اُمیدواروں سے کم ہو کر 13 ہزار 693 ہوگئی ہے ۔ قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مختص نشستوں پر اُمیدواروں کی تعداد 350 سے بڑھ کر 436 ہوگئی اور صوبائی اسمبلیوں میں یہ تعداد 821 سے بڑھ کر 1255 ہوگئی ہے ۔ الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے لیے اقلیتی امیدواروں کی تعداد میں کوئی رد و بدل نہیں ہوا اور 2013ء کی طرح اس مرتبہ بھی اقلیتی نشستوں پر 154 اُمیدوار سامنے آئے ہیں جب کہ صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی اُمیدواروں کی تعداد 310 سے بڑھ کر 471 ہوچکی ہے ۔

واضح رہے کہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کے لیے بیان حلفی جمع کروانا لازم قرار دیا گیا ہے جس کے پیش نظر کئی سیاستدانوں نے کاغذات نامزدگی جمع ہی نہیں کروائے ۔