ووٹ کی اہمیت کیا ہے؟ ترک عوام نے پوری دنیا کو دکھا دیا

ترک انتخابات 2018 میں معذور اور بیمار افراد نے وہیل چئیر پر آکر ووٹ کاسٹ کیے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر جون 13:41

ووٹ کی اہمیت کیا ہے؟ ترک عوام نے پوری دنیا کو دکھا دیا
استنبول(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25جون 2018ء) ترک صدر رجب طیب اردگان صدارتی انتخابات پہلے مرحلے میں جیت گئے ۔۔ترکی کے 2018کے انتخابات میں بہترین ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ترک صدر رجب طیب اردگان 2003میں ترکی کے صدر بنے تھے،ترک صدر رجب طیب اردگان کو 2016میں ناکام فوجی بغاوت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ترک عوام نے فوجی بغاوت کا ناکام بنایا تھا۔ ترک فوج کے ایک باغی گروہ نے آرمی چیف کو یرغمال بناکرحکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی جسے ترک عوام، پولیس اور فوج نے مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔

اس دوران ترکی میں سینکڑوں افراد کی جانیں گئیں جب کہ کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ترک عوام نے دنیا بھر کو دکھا دیا کہ وہ اپنے صدر کی پالیسیوں سے کتنے خوش اور مطمئن ہیں۔تاہم اس واقع کے بعد دنیا پھر میں ترک صدر رجب طیب اردگان ایک نئی شخصیت بن کر ابھرے۔

(جاری ہے)

ترک صدر رجب طیب اردگان کے چاہنے والے نہ صرف ترکی میں بلکہ پوری دنیا میں موجود ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردگان مسلمانوں کے حوالے سے مثبت پالیسیوں کی وجہ تمام مسلمانوں کے بھی ہیرو مانے جاتے ہیں اور انہیں دنیا بھر کے مسلمان عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ترکی میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں بھی ترک صدر رجب طیب اردگان کو واضح برتری ملی۔ ترک صدر رجب طیب اردگان صدارتی انتخابات پہلے مرحلے میں جیت گئے ہیں انہیں 53 فیصد ووٹ ملے ہیں۔تاہم ترکی میں ہونے والے الیکشن کے دوران ترک عوام کی طرف سے ووٹ دینے کے جذبے نے دنیا کو حیران کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق معذور افراد بھی وہیل چئیر پر اپنا ووٹ کاسٹ کرنے آئے۔

اس حوالے سے کچھ تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جن میں دیھا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو چلنے پھرنے سے قاصر ہیں ان کو بھی بیڈ کے او پرلٹا کر پولنگ اسٹیشن تک لایا گیا۔جب کہ کئی بزرگ بھی وہیل چئیر پر اپنا ووٹ کاسٹ کرنے آئے۔ ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق رجب طیب اردگان نے صدارتی انتخابات میں 53 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف محرم انسے 31 فیصد ووٹ ہی حاصل کرسکے ہیں۔

تاہم نتائج حتمی اعلان 29 جون کو کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے بیان سے قبل ہی صدر رجب طیب اردگان نے انتخابات میں اپنی کامیابی کے اعلان کے ساتھ پارلیمانی انتخابات میں اپنی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔ترک صدر کی جانب سے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں فتح کے اعلان کے بعد ان کے حامی جشن منانے کے لیے سڑکوں پرنکل آئے۔دوسری جانب حزب اختلاف محرم انسے نے اب تک رجب طیب اردگان کی کامیابی کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کیا اور کہا کہ نتائج جو بھی ہوں وہ ملک میں جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ووٹ کی اہمیت کیا ہے؟ ترک عوام نے پوری دنیا کو دکھا دیا