سپین، ہسپتال سے چوری کئے گئے نومولود بچوں کے پہلے مقدمے کی سماعت کل ہو گی

پیر جون 14:10

میڈرڈ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) سپین میںہسپتال سے چوری کئے گئے نومولود بچوںکے پہلے مقدمے کی سماعت کل منگل کو ہو گی۔۔جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق ایک سابق ڈاکٹرایڈوآرڈو ویل پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر نومولود بچوں کو چوری کرتے ہوئے انہیں دیگر خواتین کو بیچ دیا کرتے تھے۔ اندازوں کے مطابق اس عمل سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے تھے۔

اس مقدمے کی سماعت کا آغاز (آج) منگل کو ہسپانوی شہر میڈرڈ میں کیا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

85 سالہ ایڈوآرڈو ویلا ماضی میں میڈرڈ ہی کے سان رامون ہسپتال میں بچوں کی پیدائش کے دوران مددگار کے طور پر ملازمت کرتے تھے ،جن پر سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کرنے، غیر قانونی بچوں کی اسمگلنگ اور بچوں کے برتھ سرٹیفیکیٹ میں تبدیلیاں لانے ایسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ سپین میں چوری شدہ بچوں کے اسکینڈل میں ملوث وہ پہلے شخص ہوں گے، جنہیں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سپین میں فرانکو آمریت کے دوران پیش آنے والے ان واقعات کا انکشاف2010ء میں ہوا تھا۔