عمران خان کو میانوالی کے حلقہ این اے 95 سے الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی

ْایپلٹ ٹریبونل نے عمران خان کے کاغذات مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا

پیر جون 14:59

عمران خان کو میانوالی کے حلقہ این اے 95 سے الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) الیکشن ایپلٹ ٹریبونل نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو میانوالی کے حلقہ این اے 95 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی۔ایپلٹ ٹریبونل نے عمران خان کے این اے 95 میانوالی سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔جسٹس فیصل زمان پر مشتمل ایپلٹ ٹریبونل نے عمران خان کی اپیل پر سماعت کی جس دوران وکیل بابر اعوان نے دلائل دیئے تھے۔

چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنے مکمل اثاثے ظاہر کیے اور کچھ چھپایا نہیں بلکہ وضاحت کی ہے۔۔عمران خان کے وکیل نے وطن پارٹی سمیت 2 فیصلے عدالت میں پیش کیے جبکہ انہوں نے شیخ رشید اور شکیل اعوان کیس کے فیصلے کی کاپی بھی جمع کرائی۔

(جاری ہے)

بابر اعوان نے دلائل کے دوران کہا کہ ریٹرنگ افسر نے حقائق کے برعکس اور تکنیکی بنیاد پر عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے ۔

وکیل نے کہا کہ بروقت بیان حلفی جمع نہ کرانے اور اثاثوں کی مالیت ظاہر نہ کرنے کا الزام لگا کر کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔۔عمران خان کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے۔دوسری جانب عمران خان کے خلاف اعتراض اٹھانے والے جہانداد خان کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ عمران خان کا حلف نامہ اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ نہیں اور ہر صفحے پر ان کے دستخط مختلف ہیں۔اپیل ٹریبونل نے کچھ دیر بعد محفوظ کردہ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے خلاف ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور چیئرمین پی ٹی آئی کو میانوالی کے حلقے سے این اے 95 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔