نیلم ڈویلپمنٹ بورڈ موجودہ چیئرمین کی ناقص حکمت عملی کے باعث اپنی اہمیت وافادیت کھوگیا

پیر جون 14:59

نیلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) نیلم ڈویلپمنٹ بورڈ موجودہ چیئرمین کی ناقص حکمت عملی کے باعث اپنی اہمیت وافادیت کھوگیا،دیہی راستے ،ووکیشنل سنٹرز، سکالر شپ،انتظار گاہیں،پبلک واش رومز،پارکیں بن سکیں نہ کاروباری مراکز اور نہ ہی سیاحت کو ترقی میں معاونت مل سکی ،وادی کے سونا اگلتے پہاڑوں ، ریت ، بجری ، لکڑ، واٹر یوز چارجز ، گھچی ،پتریس ، لانگڑو، ترپترا، سمیت دیگر معدنیات سے استفادہ نہ اٹھایاجاسکا،موجودہ حکومت کے 2سالہ دور اقتدار میں ادارہ کی بہتری ، فنڈنگ کیلئے کسی ملک ، تنظیم ، ادارہ سے رابطہ بھی نہ کیاجاسکا، نہ ہی شہریوں کے بلاسود قرضے مہیا ہوسکے ، چلہانہ سے تائوبٹ تک کی تعمیر کازمہ دار ادارہ اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں یکسر ناکام ، عوامی حلقوں کا نیلم کے اہم ترین ادارہ کی خستہ حالی پر اظہا ربرہمی ، تفصیلات کے مطابق ضلع نیلم کاسب سے بڑا اور اہم ادارہ صرف 1 گھر کی لونڈ ی بن کر رہ گیا،،ن لیگ کے 2سالہ اقتدار میں نیلم ڈویلپمنٹ بورڈ ایک بھی ترقیاتی سکیمیں لانچ کرسکا، نہ کسی شہری کو روزگار کی فراہمی ہوسکی ،راجہ یوسف چیئرمین ادارہ بننے کیلئے قیادت کو سوہانے سپنے دکھارہے تھے جو عرصہ تعیناتی سے لیکر آج تک نیلم ڈویلپمنٹ بورڈ اور نہ ہی ن لیگ کیلئے کچھ کرسکے ، وزیراعظم آزادکشمیر ، سپیکر قانون سازاسمبلی ادارے کی تباہی کاعوامی مطالبہ ، نیلم ڈویلپمنٹ بورڈ نیلم کے وسائل ہی سے نیلم کے مسائل کے حل کیلئے بنایاجانیوالا ادارہ آج زبوں حالی کاشکار ہے ، نیلم ڈویلپمنٹ بورڈ کے ذریعے آمدن بڑھانے کیلئے جڑی بوٹی ، معدنیات ، پانی ، قیمتی وعام پتھروں ، لکڑ ، کاروباری مراکز ، ووکیشنل ٹریننگ سنٹر، واٹر یوز چارجز سمیت بکروالوں سے حاصل ہونیوالے ٹیکس سے استفادہ حاصل کرنا چائیے ۔

(جاری ہے)

تاہم اس کے علاوہ بھی ایسے سیاحتی مراکز جہاں آبشاریں ہیں وہاں پر تعمیرات کرتے ہوئے کرایہ پر دی جائیں، اور پھر ضلع بھر میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بھی بہترین خدمات سرانجام دینے پر معاونت کی جانا چائیے تھی۔جبکہ نیلم ڈویلپمنٹ بورڈ وادی نیلم میں اپنے اختیارات کے مطابق آمدن کے حصول میں بااختیار ہے اور وادی کے وسائل سے ہی وادی کے مسائل پر کنٹرول کیاجاسکتاہے ۔

ماہرین کے مطابق اگر ادارہ ڈویلپمنٹ بورڈ درست معنوں میں اپنے اہداف حاصل کرے تو نیلم کی تعمیروترقی کیلئے حکومت سے سالانہ بجٹ کی ضرورت نہیں پڑیگی ۔ اگر وزیراعظم آزادکشمیر اور سپیکر قانون سازاسمبلی شاہ غلام قادر نے نیلم ڈویلپمنٹ بورڈ کی حالت زا رپر توجہ نہ دی تو یہ ادارہ جلد اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے سے بھی قاصر ہوجائیگا۔