پاکستانی ساختہ سیٹلائٹ آئندہ ماہ خلا میں روانہ کیا جائے گا

سیٹلائٹ کی مدد سے زمین کے کئی خدوخال کا جائزہ اور معدنی ذخائر کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے ترجمان دفتر خارجہ سائنسدانوں کو مبارکباد، آپ نے پاکستان کو قابل فخر بنایا،ڈاکٹر محمد فیصل کا ٹوئیٹ

پیر جون 15:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) پاکستان میں تیار کردہ 2 سو 85 کلوگرام وزن کا حامل پاک ٹیس-اے ون نامی آبزرویٹری سیٹلائٹ آئندہ ماہ جولائی میں خلا میں روانہ کردیا جائے گا۔ وزارت خارجہ امورکی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ حساس آلات اور کیمروں سے لیس پاک ٹیس-اے ون نامی یہ سیٹیلائٹ خلا میں 610 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود رہے گا اور سورج کے حساب سے اپنی جگہ تبدیل نہیں کرے گا۔

اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹوئٹ کے ذریعے سائنسدانوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پاکستان کو قابل فخر بنایا۔ ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (آر ایس ایس) کے نام سے معروف اس سیٹلائٹ کی مدد سے زمین کے کئی خدوخال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور معدنی ذخائر کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

اس کے ساتھ سیٹلائٹ میں نصب حساسیت محسوس کرنے والے آلات کے سبب آر ایس ایس موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے میں بھی مددگار ثابت ہوگا، جس میں گلیشیئرز پگھلنے کا عمل، گرین ہاؤس گیسز کا اخراج، جنگلات میں لگی آگ کو جانچنا اور زراعت اور جنگلات سے متعلق مسائل کو حل کرنا بھی شامل ہے۔تاہم مذکورہ کاموں کے علاوہ بھی سیٹلائٹ مزید فعال اور غیر فعال سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس حوالے سے جب قومی خلائی ادارے، پاکستانی اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن(سپارکو) اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ((آئی ایس پی آر)) سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سیٹلائٹ کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔وا ضح رہے بھارت کی جانب سے اس قسم کی سیٹیلائٹ خلا میں بھیجنے کا سلسلہ 1970 سے جاری ہے۔اس ضمن میں سابق وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطا الرحمٰن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ سیٹلائٹ خلا میں بھیجنا ایک قبل فخر لمحہ اور مثبت قدم ہے، کیونکہ ہمارے سائنسدان سیٹلائٹ بنانے اور خلا میں بھیجنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھاری بھرکم اور بڑے مواصلاتی سیٹلائٹس کے مقابلے میں آبزرویٹری سیٹلائٹ ایک سادہ ٹیکنالوجی ہے جس میں نصب مختلف قسم کے مشاہداتی آلات کے سبب کئی سرگرمیاں سرانجام دی جاسکتی ہیں جبکہ اس سے برقی مقناطیسی لہروں اور زمین سے اٹھنے والی شعاعوں کے اخراج کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں پاکستان خلائی سرگرمیوں میں بہت زیادہ پیچھے ہے جبکہ بھارت کے مقابے میں بھی ہم ابھی 25-30 سال پیچھے ہیں