نیب نے اسلام آباد کے سیکٹرز میں غیر قانونی تعمیرات کی تفتیش شروع کردی

پیر جون 15:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) قومی احتساب بیورو ( نیب )) نے ایچ 13 اور ای 11 میں غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کی تفتیش شروع کردی ہے ۔

(جاری ہے)

میڈیا رپورٹس کے مطابق احتساب ادارے نے چھ جون کو ایک خط میں سی ڈی اے چیئرمین عثمان اختر باجوہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایچ 13 اور ای 13 میں 109بلند و بالا عمارتوں کے بارے میں تفصیلات جمع کروائیں اور جی 11 چوک میں موجود غیر قانونی عمارتوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی نیب نے سی ڈی اے کو کشمیر ہائی وے پر سرکاری زمین پر قبضے اور وہاں پر غیر قانونی ڈبل سٹوری پٹرول پمپ کی تعمیر پر بھی تفصیلات دینے کو کہا ہے سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول ڈائریکٹر نے کبھی بھی ایچ 13اور ای 11میں قانونی کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے وہاں غیر قانونی عمارتوں میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے مطابق ایچ 13 کو تعلیمی اور تحقیقاتی اداروں کیلئے مخصوص کیا گیا تھا اور سی ڈی اے کو مقامی لوگوں سے زمین حاصل کرنا تھا تاہم نہ ہی سی ڈی اے نے وہاں زمین حاصل کی اور نہ ہی وہاں غیر قانونی تعمیر کو روکنے کیلئے کوئی عمل کیا قانون کے مطابق دو سیکٹرز کوتقسیم کرنے کیلئے جو مین روڈ بنائی جاتی ہے اس کیلئے چھ سو فٹ جگہ چھوڑی جانی چاہیے لیکن ایچ 13میں مقامی لوگوں نے اپنے حصے میں تین سو فٹ جگہ بھی مکمل نہیں چھوڑی دریں اثناء جب ممبر سی ڈی اے پلاننگ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے یہ بات تسلیم کی کہ دونوں سیکٹرز کو علم تھا کہ سی ڈی اے وہاں غیر قانونی تعمیراتی کام کو روکنے میں ناکام رہی ہے ۔

متعلقہ عنوان :