فیصل آباد، عام انتخابات2018، ضلع بھر میں سیاسی سرگرمیان عرو ج پر پہنچ گئیں

سب سے بڑا مقابلہ راناثناء اللہ اور پی ٹی آئی ڈاکٹر نثار احمد جٹ کے درمیان ہوگا

پیر جون 15:10

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) فیصل آباد سمیت ملک بھر میں 2018ء کے عام انتخابات میںجوکہ 25جولائی کو ہونے جارہا ہے اس سلسلہ میں ملک بھر کی طرح فیصل آباد میں بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں ، جبکہ فیصل آباد کے کل ووٹرزکی تعداد 44لاکھ 77ہزار 338جبکہ اس میں 19لاکھ 9ہزار 209خواتین کے ووٹ شامل ہیں، پی ٹی آئی مسلم لیگ ن سمیت بڑ ی سیاسی جماعتوں میں امیدواروں ک ٹکٹوں کی تقسیم کا اعلان ہوتے ہی پاکستان کے تیسر ے بڑے شہرفیصل آباد میں سیاسی میدان سج گیا ، سب سے بڑا مقابلہ سابق صوبائی وزیرقانون راناثناء اللہ خاں اور پی ٹی آئی ڈاکٹر نثار احمد جٹ کے درمیان ہوگا،آن لائن کے مطابق قومی اسمبلی کی 10اور صوبائی اسمبلی کی 21نشستوں کے لئے ضلعی الیکشن کمیشن نے 774امیدواروں کو اہل قرار دے دیا جبکہ 59امیدواروں کی سیاست کا فیصلہ انکی الیکشن ٹربیونل اپیلوں کی روشنی میں ہوگا ، پاکستان تحریک انصاف کے بعد مسلم لیگ (ن) نے بھی فیصل آباد کے لئے 8قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے 14امیدواروں کا حتمی اعلان کر دیا دیگر جماعتوں نے بھی ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ بہت حد تک مکمل کر لیا ہے ، پاکستان پیپلز پارٹی ماضی میں پنجاب بھرکی طرح فیصل آباد میں بھی سیاسی لحاظ سے کافی مضبوط تھی لیکن اب پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) میں سخت مقابلہ متوقع ہے دونوں بڑی پارٹیوں میں ٹکٹوں کی تقسیم پر کئی امیدواران روٹھ بھی چکے ہیں جبکہ دیگر پارٹیوں کے امیدوار بھی مقابلے کے لئے سیاسی میدان میں اتر چکے ہیں ، بڑی سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈروں اور دیگر امیدواروں کی عوامی رابطہ مہم رات گئے تک جاری سیاسی ڈیروں پر رات گئے تک لذیز کھانوں سے ووٹرز سپورٹرز کی تواضح کا سلسلہ جاری ہے الیکشن میں سیاسی سرگرمیوں کے لئے کئی سپورٹرزن نے ایک ماہ کے لئے محنت و مزدوری کا سلسلہ ترک کر کے اپنے سیاسی امیدواروں کو جتوانے کے لئے ٹھان لی جبکہ اسی آڑ میں سیاسی ڈیروں پر دیہاڑی دار بھی متحرک ہو گئے ہیں سیاسی ڈیروں پر پارٹی ترانوں کے رقص نے سیاسی ماحول کو گرمادیا ہے مصروف جبکہ سیاسی پنڈت ماضی کی طرح ووٹروں کو جھوٹے دلاسوں ، طفل تسلیوں میں براجمان ہیںفیصل آباد حلقہ این اے 106یہاں مسلم لیگ ن کے سابق صوبائی وزیرقانون راناثناء اللہ خاں اور پی ٹی آئی ڈاکٹر نثار احمد جٹ کے درمیان سب سے بڑا مقابلہ ہوگا اور اس حلقہ میں ملی مسلم لیگ اور سنی اتحاد کونسل کے امیدواران میں موجودہ ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ کسی بھی صورت راناثناء اللہ اسمبلی میں نہ پہنچ ہے اس کیلئے ہر تر کا سیاسی جوڑ توڑ ہوگا، سیاسی حلقوں میں ووٹروں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اس الیکشن میں خلائی مخلوق کی اجارہ داری نہیں چلے گی کوئی خفیہ طریقے سے ووٹ حاصل کر کے جتنے کا سوچے بھی نہ اس بار وہی امیدوار جیتے گا جو ماضی کی اچھی شہرت اور صحیح سیاسی قیادت کے ساتھ منسلک ہوگا ، جو ملکی مفاد کے لئے بہتری کی طرف گامزن ہوگا دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کے امیدواروں میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔