شامی فو ج کے روس کی مددسے درعا پر 60میزائل حملے،70باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

جھڑپوں میں 13سرکاری فوجی،15جنگجوہلاک ہوئے،مبصرتنظیم /دیہی قصبوں پر فضائی بم باری میں پانچ شہری جاں بحق

پیر جون 15:30

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) روسی وزارت دفاع نے شام کے جنوبی حصے میں غیر عسکری علاقے میں باغیوں کی جانب سے کیے گئے حملے کو پسپا کرنے اورجوابی حملے میں 70باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے ،ادھر شامی مبصر تنظیم نے کہاہے کہ شامی صدر بشار الاسد کی فوج نے شام کے شہر درعا کے مختلف علاقوں کو زمین سے زمین تک مار کرنے والے تقریبا 60 میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے جس میں بشار کی فوج کے کم از کم 13 ارکان اور شامی اپوزیشن کے 15 جنگجوہلاک ہوگئے ،علاوہ ازیں مشرقی دیہی علاقے میں الحراک، الصورہ اور علما کے قصبوں پر فضائی بم باری میں 5 شہری جاں بحق ہو گئے جب کہ ایک ہسپتال نا قابل استعمال ہو گیا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد السوری نے کہاکہ بشار کی فوج نے چار دیہات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

(جاری ہے)

المرصد نے بشار کی فوج کے کم از کم 13 ارکان اور شامی اپوزیشن کے 15 جنگجوئوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔علاوہ ازیں مشرقی دیہی علاقے میں الحراک، الصورہ اور علما کے قصبوں پر فضائی بم باری میں 5 شہری جاں بحق ہو گئے جب کہ ایک ہسپتال نا قابل استعمال ہو گیا۔

اس طرح منگل کو حملے کے آغاز کے بعد سے اب تک کم از کم 23 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔شام میں بشار کی فوج نے منگل کے روز درعا صوبے بالخصوص مشرقی دیہی علاقہ جات میں اپنی بم باری کو شدید کرنا شروع کیا تھا۔اس وقت بشار کی فوج اور اپوزیشن گروپوں کے بیچ معرکہ جاری ہے۔ بشار کی فوج اللجاہ کے علاقے کو محاصرے میں لینے کے واسطے پیش قدمی کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ شام کے جنوبی حصے میں غیر عسکری علاقے میں باغیوں کی جانب سے کیے گئے حملے کو پسپا کر دیا گیا ہے۔ ملکی وزارت دفاع سے جاری بیان میں کہاگیاکہ اس دوران شامی فوج کے ہاتھوں 70 کے قریب باغی حملہ آور ہلاک ہوگئے۔ اس آپریشن میں شامی فوج کو روسی فضائی مدد بھی حاصل تھی۔ شامی فورسز ملک کے جنوبی صوبہ درعا میں باغیوں کے خلاف پیشقدمی کر رہی ہیں۔