ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کی شہریوں، سرمایہ کاروں اور بڑی کاروباری شخصیات کو ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے کی تجویز، سکیم بہتر انداز میں تیار کی گئی جس کے ذریعے اندرون و بیرون ملک اثاثے و رقوم معمولی ٹیکس کے بدلے ظاہر کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، سینئر نائب صدر سارک چیمبر و چیئرمین یونائیٹڈ بزنس گروپ افتخار علی ملک

پیر جون 15:40

لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) ملک بھر کے تمام چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور یونائیٹڈ بزنس گروپ نے عام شہریوں، سرمایہ کاروں اور بڑی کاروباری شخصیات سے کہا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ یہ سکیم بہتر انداز میں تیار کی گئی ہے جس کے ذریعے سب کو اندرون و بیرون ملک موجود اپنے اثاثے اور رقوم معمولی ٹیکس کے بدلے ظاہر کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے پیر کے روز جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے یہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم بہترین انداز میں تیار کی ہے اور اس کے زمرے میں آنے والے ہرشخص کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

(جاری ہے)

ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے کہا کہ اس سے حکومت کی ٹیکس آمدن اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور کرنٹ اکائونٹ خسارے میں کمی آئے گی ۔

انھوں نے کہا کہ اس سکیم سے ادائیگیوں میں توازن، بیرونی سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔افتخار علی ملک نے کہا کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے ٹیکس اصلاحات پیکیج اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے اجراء سے سرکاری آمدنی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد اور اداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں یقینی طور پر مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ ملک کی آبادی 20 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افراد پر مشتمل ہے جس میں سے صرف 12 لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں ، ٹیکس بیس میں اضافے سے ہونے والی آمدنی سے لوگوں کو بہتر اقتصادی و سماجی سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اسی قسم کی ایمنسٹی سکیم کی ضرورت ہے جہاں لوگ دہشتگردی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث اپنی دولت بیرون ملک رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین کی دو روز قبل وفاقی دارالحکومت میں میرے، وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے صدر غصنفر علی بلور اور دیگر تاجر رہنمائوں سے تفصیلی ملاقات ہوئی جس دوران انھوں نے رضاکارانہ طور پر اس سکیم میں حصہ لینے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا۔چیئرمین ایف بی آر نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ حکومت نوزائیدہ صنعتوں کی ترقی کے لیے بھی نجی شعبے کو سہولیات فراہم کرے گی۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ اس وقت ملک میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر بحال ہوچکی ہے اور لوگ اس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا کر اپنی بیرون ملک موجود دولت واپس لاسکتے ہیں، سکیم 30 جون تک جاری رہے گی جس کے تحت اندرون و بیرون ملک اثاثوں پر بالترتیب 5 اور 2 فیصد کی معمولی شرح سے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سکیم کے تحت کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کو نیشنل ٹیکس نمبر قرار دیا گیا ہے جس سے لوگ اپنے ٹیکس ریٹرن باآسانی جمع کراسکیں گے۔