چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اہل خانہ کو خوشخبری سنادی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 16:05

چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اہل خانہ کو خوشخبری سنادی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 جون 2018ء) : چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ امریکی عدالت میں لے جانےکا فیصلہ کر لیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی شہادت سے متعلق خبریں موصول ہوئیں تو دل دُکھا لیکن دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے بعد تسلی ہو گئی کہ وہ زندہ ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر جو کر سکتے ہیں، ہم نے وہ کام کرنے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق ہم امریکی عدالت سے رجوع کر کے وہاں مقدمہ دائر کریں گے، ہم نے حکم جاری کر دیا اور اگر امریکی عدالت حکم اُٹھا کر پھینک دے تو ہماری عدلیہ کی کیا عزت ہو گی۔ یاد رہے کہ امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہلاکت سے متعلق خبریں آئی تھیں جن کی ان کے خاندان نے بھی تردید کی تھی۔

(جاری ہے)

بعد ازاں قومی اخبار روزنامہ 92 میں شائع ایک خبر کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اتنے برس میں پہلی مرتبہ اپنے جیل کے حالات اور جیل میں پیش آنے والے سلوک سے متعلق بات کی۔

ا مریکی ریاست ٹیکساس میں واقع خواتین کی جیل فیڈرل میڈیکل سنٹر کارس ویل ( FMC Carswell) میں قید کی سزا کاٹنے والی پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ملاقات کی ہے جس کی تفصیل 24مئی 2018کوپاکستانی دفتر خارجہ کو بھجوا ئی گئی۔ قونصل جنرل کے مطابق ڈاکٹر عافیہ جیل اسٹاف سے بہت خوفزدہ ہیں لیکن اس سب کے باوجود وہ پُر اُمید دکھائی دیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے بتایا کہ میں ذہنی اور نفسیاتی طور پر بالکل ٹھیک ہوں۔ جیل حکام مجھے کھانے میں زہر دے رہے ہیں، اورمجھے عملے کی جانب سے ہراساں بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس سپروائزر اینی نیبلٹ نے میرا اسکارف نوچا اور دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر جنسی تشدد کی کوشش کی۔ جیل کے سٹاف ممبر رامی ریز نے میری شال پر پیشاب کر دیا جو میں بُن رہی تھی،ان کا کہنا تھا کہ میرا کیس وکلا کی سُستی کی وجہ سے ضائع ہوا ہے،،جیل میں عبادت کے لیے کوئی پاک جگہ میسر نہیں ہے۔

سابق امریکی سفیر حسین حقانی میری مدد نہیں کرنا چاہتے تھے ، حسین حقانی کے پرسنل ا سسٹنٹ آصف حسین نے کیس کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے دیئے گئے 20 لاکھ ڈالر میں خورد برد کی۔ اس کی تحقیقات کی جانی چاہئیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کہا کہ میری والدہ کو ملاقات کے لیے نہ لایا جائے،ملاقات کے لیے آنے پر ان کے لیے مشکلات ہوں گی۔ ڈاکٹر عافیہ نے مطالبہ کیا کہ کہ انہیں اپنے وکیل کیتھے اور سٹیون پر اعتماد نہیں، ان وکلا کی خدمات واپس کی جائیں۔

قونصل جنرل کے بقول ڈاکٹر عافیہ اپنی سابق اٹارنی ٹینا فوسٹر پر اعتماد کا اظہار کرتی ہیں۔ ٹینافوسٹر مسلمان ہیں اور انہوں نے عافیہ کے بیٹے کو افغانستان کی خفیہ جیل سے بازیاب کروانے میں مدد کی تھی۔ قونصل جنرل نے جب عافیہ صدیقی سے پوچھا کہ وہ کراچی میں اپنی والدہ سے فون پر بات کیوں نہیں کرتیں تو عافیہ نے بتایا ان کی فون کالز کی سخت نگرانی کی جاتی ہے ، وہ چاہتی ہیں کہ انہیں بھی باقی قیدیوں کی طرح بغیر مداخلت اور نگرانی کے فون کال کی اجازت دی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ جیل عملے نے اس کی سب چیزیں ضبط کر لی ہیں ۔ جب پوچھا گیا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی والدہ یا بہن ان سے ملنے یہاں آئیں تو انہوں نے منع کرتے ہوئے کہا کہ برائے مہربانی انہیں یہاں نہ لائیے ۔انہوں نے کہا کہ 11-2010ء میں بھی جب وہ آئی تھیں تو انہیں امریکی سکیورٹی اداروں نے گرفتار کر لیا تھا اور پھر کافی مشکل سے ان کی رہائی ممکن ہوئی۔

قونصل جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ڈاکٹر عافیہ نے گفتگو کے دوران متعدد بار شکایت کی کہ وہ جیل میں فراہم کمرے سے مطمئن نہیں ،،جیل کا عملہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کر نے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ جیل عملے خصوصاً کیس سپروائزر اینی نیبلٹ کے رویے سے سخت شاکی ہیں جس نے ان کی چیزیں ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے سر سے سکارف بھی نوچا تھا۔ قونصل جنرل نے کہا کہ اس سے پہلے ہوئی 3 ملاقاتوں میں عافیہ مکمل طور پر اپنے حواس میں نہیں تھیں، انہیں ذہن پر اثر کرنے والی مخصوص دوائیں دیئے جانے کا خدشہ ہے ۔

قونصل جنرل نے لکھا جیل کے ایک سابق سٹاف ممبر رامیریز(کوتاہ قد، بھدا اور بدصورت) کا عافیہ نے کئی بار ذکر کیا کہ اس نے عافیہ کی بنائی ہوئی شال پر پیشاب کر دیا تھا، وہ اپنی والدہ کے لیے شال بُن رہی تھیں، عافیہ کو خدشہ ہے کہ مذکورہ شخص اگلے ماہ پھر یہ جیل جوائن کر کے انہیں اذیت پہنچائے گا۔ انہوں نے درخواست کی ہے کہ متعلقہ حکام کو بتایا جائے کہ اس شخص کو جیل میں تعنیات نہ کیا جائے ۔

انہیں خوف ہے کہ وہ انہیں جنسی و جسمانی طور پرنقصان پہنچاسکتا ہے ۔ عافیہ نے اس شخص کو عادی جنسی درندہ اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کرنے والا قرار دیا۔ عافیہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے وکیل اینی نیبلٹ نے اپنے دو اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر رواں برس فروری میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا ایف ایم سی کارس ویل میں ادارہ جاتی سطح پر جنسی تشدد کیا جاتا ہے ، یہاں صرف خدا ہی بچا سکتا ہے ۔

قونصل جنرل کی رپورٹ کے مطابق جیل سٹاف نے کئی بار عافیہ کو پاگل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود اپنے آپ کو زخمی کرتی ہے ۔ عافیہ نے کہا ہے وہ میرے کمرے میں داخل ہو کر مجھے تشدد کا نشانہ بناتے اور پھر باہرجھوٹ بولتے کہ یہ سب میں نے خود کیا۔ عافیہ نے جیل عملے پر قرآن پاک کی بے حُرمتی کا الزام بھی عائد کیا ۔عافیہ نے کہا کہ مجھے خوراک میں فاسفیٹ اور فاسفورک ایسڈ کی ملاوٹ کی صورت میں زہر دیا جا رہا ہے ۔

قونصل جنرل کی رپورٹ کے مطابق عافیہ صدیقی مسٹر ای مییئرزنامی صرف ایک اسٹاف ممبر پر اعتماد کا اظہارکرتی ہے لیکن وہ اس سے مدد کی بار بار اپیل اس خوف سے نہیں کرتی کہیں وہ مشکل شکار نہ ہو جائے ۔قونصل جنرل نے عافیہ سے پوچھا کہ کیا وہ ای میل ریسیو کرتی رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ سب جعلی ای میلز ہیں ، اصلی ای میل ہتھیا لی گئی ہے ۔

عافیہ نے پاکستانی قونصل جنرل سے اصرار کیا کہ وہ رپورٹ کریں کہ وہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر تندرست ہیں اور ان کی ذہنی حالت بھی درست ہے ۔ قونصل جنرل نے عافیہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے 2011ء میں جج کو لکھا تھا کہ آپ اپنے خلاف سنائے گئے فیصلے کو چیلنج نہیں کرنا چاہتیں تو عافیہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’’ جی ہاں! کیونکہ مجھے یہاں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں تھی ۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ میں ان کا کیس وکلاء کی نااہلی کہ وجہ سے ضائع ہوا۔ ڈاکٹر عافیہ نے آصف حسین نامی ایک شخص جو اس وقت کے امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کا پی اے بتایا جاتا ہے ، پر الزام عائد کیا کہ اس نے اس کیس کے ٹرائل کے لئے 2010ء میں پاکستانی حکومت کی جانب سے دیئے گئے دو ملین ڈالرز ہڑپ کئے ۔ انہوں نے کہا سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی بھی اس رقم کی خرد برد میں شامل ہو سکتے ہیں۔

عافیہ کے بقول حسین حقانی ان کی مدد میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے ۔ ڈاکٹر عافیہ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خلاف مسلسل غلط معلومات پھیلائی جاتی رہیں، ان کا کسی بھی کالعدم گروہ سے تعلق نہیں تھا اور اور نہ اس شخص سے ’’جو2011ء میں سمندر میں پھینکا گیا‘‘ ، ان کا اشارہ اسامہ بن لادن کی طرف تھا۔ ڈاکٹر عافیہ نے کہا وہ جیل میں اسلامی عقائد کے مطابق دن گزارنا چاہتی ہیں لیکن یہ جگہ عبادت کے لیے پاک نہیں، گندہ پانی دیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اپنے مذہب پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔

قونصل جنرل نے جیل سٹاف سے اجازت مانگی کہ انہیں عافیہ کی تصویر لینے دی جائے تاکہ وہ اُن کی والدہ کو بطور ثبوت پیش کر سکیں کہ اُن کی بیٹی زندہ ہے تو سٹاف نے کیمرا نہ ہونے کا بہانہ کیا۔ قونصل جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھاکہ عافیہ بھی اپنی تصویر بنوانے کے معاملے پر ہچکچاہٹ کا شکار تھیں۔ قونصل جنرل نے ڈاکٹر عافیہ سے کہا کہ وہ اپنا کوئی ایسا نِک نیم(عرفیت) بتائیں جس سے آپ کی والدہ نے آپ کو پکارا ہو اور اب انہیں وہ سُن کر یقین آ جائے کہ یہ صرف عافیہ ہی بتا سکتی ہیں ۔

قونصل جنرل کے مطابق بہت سوچنے کے بعد عافیہ صدیقی نے کہا کہ ان کے والدین اکثر انہیں ’’عفو رانی ‘‘ کہہ کر بلاتے تھے ۔ پھر عافیہ نے اُردو میں ایک مختصر پیغام اپنی والدہ کے نام ریکارڈ کروایا جسے قونصل جنرل نے اپنے تفصیلی نوٹ کے ساتھ تحریری طور پر شامل کیا۔قونصل جنرل نے 12 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ کے آخری دو صفحات میں تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں عافیہ کے ان تمام الزامات کو سنجیدہ لے کر اعلیٰ سطح پر ان کی مدد کرنی چاہئیے۔

انہوں نے کہا یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کو تفصیلی نوٹ بھیجنا چاہئیے جس میں ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ لاک اپ میں ہونے والے جسمانی اور جنسی تشدد کی تحقیق کا مطالبہ کیا جائے اور رامی ریز نامی (Ramirez) شخص کو عافیہ صدیقی کے یونٹ میں داخلے کی اجازت نہ دینے کی استدعا کی جائے ۔ کوئی ایسا قانونی راستہ تلاش کیا جائے کہ ڈاکٹر عافیہ کو قید کاٹنے کیلئے پاکستان منتقل کرنا ممکن ہوسکے ۔