این اے 57 ،شاہد خاقان کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

پیر جون 16:39

این اے 57 ،شاہد خاقان کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) الیکشن ایپلٹ ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 57 مری سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔پیر کو ایپلٹ ٹریبونل نے درخواست گزار مسعود احمد عباس کی درخواست پر سماعت سماعت کی، اس دوران سابق ویزر اعظم شاہد خاقان عباسی پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ لیز کی آڑ میں لارنس کالج کے جنگل میں شاہد خاقان نے قبضہ کیا جس پر سربراہ اپیلٹ ٹریبونل نے ریمارکس دیے کہ یہ آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ لیز کی آڑ میں قبضہ کیا ہے، کاغذات سے تو ثابت نہیں ہوتا، آپ ثابت کریں۔اس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ امیدوار شاہد خاقان عباسی نے کاغذات میں بہت تبدیلی کی ہے، جو مصدقہ کاپی مجھے دی گئی وہ خالی ہے جبکہ اب یہ کاغذات نامزدگی بھرے ہیں۔

ایپلٹ ٹریبونل کی جانب سے وکیل سے استفسار کیا گیا کہ آپ کو کس بات پر اعتراض ہی کون سے ایسے کاغذات لگائے ہیں جس پر شاہد خاقان عباسی کو انتخابات کیلئے نااہل قرار دیا جائے۔جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں ٹیمپرنگ کی ہے، اس پر ٹریبونل نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ کی بات مان لی جائے کہ ٹیمپرنگ کی گئی تو کون سی شق کے تحت انہیں نااہل کیا جائے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آرٹیکل 62 کے تحت نااہل کیا جائے، جس پر ایپلٹ ٹریبونل نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 62 کی کون سے کلاز کے تحت الیکشن لڑنے سے نااہل کروں اس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون کلاز ڈی کے تحت نااہل کیا جائے، جس پر جج کی جانب سے دیے گئے ریمارکس سے درخواست گزار کے وکیل بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے۔اس دوران ایپلٹ ٹریبونل نے حلقہ این اے 57 کے ریٹرننگ افسر ( آر او ) حیدر علی خان کو طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ صفحہ 52 اور 66 کے کاغذات ایک ہی ہیں آس حوالے سے آپ نے کوئی تحریکی حکم نامہ دیا تھا جس پر ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ انہوں نے کوئی تحریری حکم نامہ نہیں دیا تھا، کوئی تحریری حکم نامہ نہیں دینا میری غلطی ہے، اس پر ٹریبونل کے جج جسٹس عباد الرحمن لودھی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایسے آر او کیسے شفاف انتخابات کرا سکتے ہیں ۔

اس دوران وکیل شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ان کے موکل نے تمام اثاثے ظاہر کردئیے ،ْ دونوں کاغذات نامزدگی میں ایک جیسی ہی معلومات ظاہر کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے موکل نے دونوں فارمز میں ایئر بلیو کے شیئرز کا ذکر کیا ہے جبکہ آر او کے حکم سے فارم میں حروف تہجی ایل لکھا گیا، اس پر اس وقت اعتراض کیوں نہیں کیا گیا۔اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ اصل معاملہ کاغذات نامزدگی کا ہے ،ْوہاں سب کچھ لکھا ہے۔

بعد ازاں ٹریبونل نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کاعذات نامزدگی میں ٹیمپرنگ نہیں کی گئی، میرے وکیل نے عدالت کے سامنے اضافی معلومات پیش کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بیان حلفی کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا جس کی ضرورت نہیں تھی، حلف نامے سے مشکلات پیدا ہورہی ہے، پہلے بھی کہا تھا کہ الیکشن کے فیصلے عدالت نہیں عوام کرتے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ عدالت کا فیصلہ سرآنکھوں پر ہے لیکن (ن) لیگ کے امیدوار ہی زیادہ عدالتوں کا سامنا کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ (ن) اپنا ریکارڈ لے کر عوام کے پاس جارہی ہے ،ْ نوازشریف ہمارے لیڈر ہیں۔انہوںنے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں ترمیم سے پورے پاکستان میں مشکلات آئی ہیں۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ کہوٹہ میں میرے خلاف احتجاج صرف 12 افراد نے کیا تھا، احتجاج ان کا حق اور یہ الیکشن مہم کی روح ہے، ٹکٹ نہ ملنے پر امیدوار اختلاف رائے کرتے ہیں اور پارٹی چھوڑتے بھی ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب اقتدار میں آئے تو ساڑھے 3 ارب ڈالر تھے اور جاتے ہوئے 16 ارب ڈالر چھوڑ کرگئے جب کہ بجلی سے متعلق تمام حقائق لکھ کر میڈیا کو دیے تھے، پانی کی کمی کی وجہ سے 3 ہزار میگاواٹ بجلی کم پیدا ہورہی ہے، بجلی سے متعلق نگراں حکومت سے سوال کیا جاسکتا ہے۔انتخابات کے حوالے سے انہوںنے کہا کہ 25 جولائی کو جو انتخابات روکے گا اس پر آرٹیکل 6 لگے گا۔

Your Thoughts and Comments