آف شور کمپنیوں کی انکوائری کا معاملہ ،ْ

زلفی بخاری نیب راولپنڈی میں پیش ،ْڈیڑھ گھنٹے تک پوچھ گچھ آف شور کمپنیاں کیسے بنائی گئی، فنڈز کہاں سے لائے گئے نیب کے سوالات …جوابات کیلئے ایک ہفتے کا وقت دیدیا مجھ پر کرپشن کا الزام غلط ہے ،ْمیں نے نیب کے ساتھ ہر لحاظ سے تعاون کیا ہے ،ْذلفی بخاری کی گفتگو

پیر جون 16:39

آف شور کمپنیوں کی انکوائری کا معاملہ ،ْ
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے دوست زلفی بخاری اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر نیب راولپنڈی آفس میں پیش ہوئے جس پر نیب نے سوالات کے جوابات کیلئے ایک ہفتے کا وقت دے دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری نیب راولپنڈی کے آفس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے، ٹیم نے زلفی بخاری سے 6 آف شور کمپنیوں سے متعلق ڈیڑھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور سوال نامہ ان کے حوالے کیا۔

سوالنامے میں زلفی بخاری سے آف شور کمپنیوں کے ذرائع آمدن پوچھے گئے، آف شور کمپنیاں کیسے بنائی گئی، فنڈز کہاں سے لائے گئے زلفی بخاری نے جواب دینے کے لیے 2 ہفتے کا وقت مانگا مگر نیب نے ایک ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

(جاری ہے)

زلفی بخاری نے کہاکہ بلیک لسٹ کا کوئی قانون موجود نہیں، مجھے نہیں پتہ تھا کہ میرا نام بلیک لسٹ میں ہے۔ ایف آئی اے سے پوچھا جائے کہ انہوں نے میرا نام کیوں ڈالا ۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی 6 آف شور کمپنیاں تھیں جس کے حوالے سے نیب کی جانب سے تحقیقات کی جا رہی ہے تاہم مجھ پر کرپشن کا الزام غلط ہے ،ْمیں نے نیب کے ساتھ ہر لحاظ سے تعاون کیا ہے۔یاد رہے کہ تیرہ جون کو نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کی تھی۔ ذلفی بخاری کو 27جون کو پھر دوبارہ پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ۔