سپریم کورٹ نے عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کی درخواست خارج کردی

خدشہ تھا کہیں عافیہ صدیقی کی شہادت تو نہیں ہوگئی، وہ ماشا اللہ حیات ہیں، عدالت امریکا کو ہدایات نہیں دے سکتی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی طرف سے امریکی سپریم کورٹ میں دعویٰ دائر کریں، ہمارا حکم امریکی عدالت اٹھا کر پھینک دے تو ہماری عدلیہ کی کیا عزت ہوگی،چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس

پیر جون 16:42

سپریم کورٹ نے عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کی درخواست خارج کردی
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) سپریم کورٹ نے عافیہ صدیقی کی واپسی سے متعلق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست خارج کردی ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ، ایشو عافیہ صدیقی کی شہادت کا تھا، خدشہ تھا کہیں عافیہ صدیقی کی شہادت تو نہیں ہوگئی، وہ ماشا اللہ حیات ہیں، عدالت امریکا کو ہدایات نہیں دے سکتی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی طرف سے امریکی سپریم کورٹ میں دعویٰ دائر کریں، ہمارا حکم امریکی عدالت اٹھا کر پھینک دے تو ہماری عدلیہ کی کیا عزت ہوگی۔

پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے عافیہ صدیقی کی واپسی سے متعلق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کیا تھا اور ایشو عافیہ صدیقی کی شہادت کا تھا، خدشہ تھا کہیں عافیہ صدیقی کی شہادت تو نہیں ہوگئی تاہم اب وزارت خارجہ کا جواب آگیا ہے، عافیہ صدیقی ماشا اللہ حیات ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت امریکا کو ہدایات نہیں دے سکتی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی طرف سے امریکی سپریم کورٹ میں دعوی دائر کریں۔ ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی کے وکیل نے کہا کہ پاکستانی شہری کے بھی بنیادی حقوق ہیں۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں امریکا میں عافیہ صدیقی کے معاملے پر کردار ادا نہیں کر سکتیں، ہم نے وہ کام کروانیں ہیں جو ہم کرسکتے ہیں، ہمارا حکم امریکی عدالت اٹھا کر پھینک دے تو ہماری عدلیہ کی کیا عزت ہوگی۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد عافیہ صدیقی کی واپسی سے متعلق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست خارج کردی۔