نوکوٹ پولیس کی سرپرستی میں سرکاری شراب خانے سے مسلمانوں کو شراب کی فروخت بند نہ ہوسکی

پیر جون 17:01

نوکوٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) نوکوٹ پولیس کی سرپرستی میں سرکاری شراب خانے سے مسلمانوں کو شراب کی فروخت بند نہ ہوسکی ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن میرپورخاص اور پولیس کی بھاری منتھلیاں مقرر شہر میں نشے میں دھت نوجوانوں کے روزبروز جھگڑوں میں اضافہ ہوگیا تفصیلات کے مطابق نوکوٹ ڈھوروبازار چوک پر قائم سرکاری شراب خانہ نوجوانوں کی بے راہ روی کے رجحان میں اضافے کاایک اہم مرکز بند چکا ہے سرکاری شراب خانے سے ہندوؤں کوبھی محکمہ ایکسائز سندھ کے جاری کردہ لائسنس پر مقررہ مقدار سے زائد شراب دی جارہی ہے جبکہ شراب خانے پر موجود عملہ بڑی دیدہ دلیری سے مسلمانوں خصوصاً نوعمر نوجوانوں کو بھی شراب فروخت کررہے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ کے قانون کے تحت سرکاری شراب خانے کے کھلنے اور بند کرنے کے اوقات بھی مقرر ہیں لیکن سرکاری شراب خانے کے مالک کا تھرکے سابق سینیٹر اور پی پی پی کے سرگرم رہنماء سے قریبی تعلق اورشراب خانوں میں شراکت ہونے کی وجہ سے سرکار شراب خانہ رات گئے تک کھلا رہتاہے جبکہ نوکوٹ پولیس کے ایس ایچ او کو باربار شکایت کے باوجود بھی شراب خانے کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر ہیں شہر میں سرکاری شراب خانے سے شراب کی بلاروک ٹوک کے شراب کی فروخت کی وجہ سے آئے دن ہوٹلوں اور اہم مقامات پر نشے میں دھت نوجوانوں میں جھگڑے عام ہوچکے ہیں گزشتہ رات ٹاؤن کمیٹی نوکوٹ میں بھی ایک واقع پیش آیا جس میں پی پی پی کا ایک جیالا نشے میں دھت ہوکر ڈیوٹی پر موجود چوکیدار سے گالم گلوچ کی اور چیئرمین نوکوٹ کے دفتر کی چابیاں چھین کر دفتر میں گھس کر غل غپاڑہ کیا اور بعد میں چیئرمین اور دیگر رہنماؤں نے نے معاملے کو رفع دفع کردیا تھا جبکہ نوکوٹ شراب خانے کے بند ہونے کے بعد بھی شراب خانے کے سامنے بیٹھے لوگ شراب کی فروخت کے دوران بھی جھگڑے بھی روز کا معمول ہیں جس کی وجہ سے ہریجن کالونی کے مکین شور شرابے سے سخت پریشان رہتے ہیں جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میرپورخاص اور نوکوٹ پولیس نے سرکاری شراب خانے سے ماہانہ ایک لاکھ روپے سے زائد بھی منتھلیاں مقرر کررکھیں ہیں اور مذکورہ اداروں کے افسران نے مکمل طور پر چشم پوشی اختیار کرلی ہے

متعلقہ عنوان :