ْالیکشن 2018 ،ْہمارے قدامت پسند معاشرے میں مضبوط خاتون کسی کیلئے قابل قبول نہیں ،ْشہناز راجہ

آخر کہاں لکھا ہے کہ اسلام میں عورت سیاست میں نہیں آ سکتی یا مرد اور عورت برابر نہیں رہنما عوامی نیشنل پارٹی

پیر جون 17:24

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما شہناز راجہ نے کہا ہے کہ انہیں ہمیشہ لوگوں کو قائل کرنا پڑتا ہے کہ وہ ایک عورت پر اعتماد کریں اور انہیں ووٹ دیں ،ْآخر کہاں لکھا ہے کہ اسلام میں عورت سیاست میں نہیں آ سکتی یا مرد اور عورت برابر نہیں ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق شہناز راجہ نے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے ،ْ وہ خیبر پختونخواہ کے حلقہ 38 سے انتخابی مہم میں حصہ لینے والی واحد خاتون ہیں۔

شہناز راجہ کے مطابق یہاں ووٹ ڈالنے کی اجازت تو ہے تاہم ووٹ کس کو دینا ہے، یہ گھر کا مرد فیصلہ کریگا۔ انہوںنے کہا کہ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی سے ووٹ لینے کے لیے سب تیار ہو جاتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی ووٹ مانگنے آ جائے تو کبھی اسلام کے نام پر اور اور کبھی معاشرتی روایات کے نام پر عورت کو روک دیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ وہ علاقے میں سکول کالج اور خواتین کیلئے تربیتی مراکز بنانا چاہتی ہیں تاکہ وہ مختلف ہنر سیکھ سکیں ،ْان کے مطابق شاید یہی وہ سوچ ہے جو یہاں کے مردوں کو خوفزدہ کرتی ہے ،ْبدقسمتی سے ہمارے کنزرویٹو معاشرے میں مضبوط خاتون کسی کے لیے قابلِ قبول نہیں ،ْاس لیے نہ اٴْسے ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے نہ ووٹ مانگنے کی۔

انہوںنے کہاکہ کئی ایسے واقعات ہوتے رہے جن سے دل ٹوٹ جاتا، مثلا ایک عورت کے لیے وہ چاہے کسی بھی عہدے پر ہو، مرد سے کام کروانا ایک مشکل کام ہے۔ لوگ فقرے کستے ہیں ،ْمجھے اکثر سرکاری افسران کہتے کہ ایک عورت کو گھر سے باہر نکلنے کی کیا ضرورت ہے، گالم گلوچ بھی برداشت کرتی رہی ہوں لیکن میں نے ثابت کیا کہ میں اپنے لوگوں کے مسائل حل کر سکتی ہوں۔انہوںنے کہاکہ طویل جدو جہد کے بعد اب لوگ گندی نظروں سے نہیں دیکھتے کیونکہ اب وہ جانتے ہیں کہ میں ایک مضبوط عورت ہوں۔ان کے مطابق پاکستان میں کوئی جماعت تبدیلی نہیں لا سکتی، ’اگر کوئی تبدیلی لا سکتا ہے تو وہ اس ملک کی خواتین ہیں ،ْخواتین سیاست میں آئیں گی تو یہ ملک بدلے گا

متعلقہ عنوان :