فلسطینی نوجوان کی بلا جواز انتظامی قید کیخلاف 22 روز سے بھوک ہڑتال جاری، حالت تشویشناک

پیر جون 17:40

بیت لحم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی نوجوان حسین شوکہ نے بلا جواز انتظامی قید کیخلاف بطور احتجاج 22 روز سے مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔ دوسری جانب اسیر کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔اطلاعات کے مطابق 30 سالہ حسن حسنین شوکہ ’ھداریم‘ جیل میں قید ہے اور اس نے 22روز قبل صہیونی زندان میں انتظامی قید اور غیر انسانی سلوک کے خلاف بطور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔

(جاری ہے)

فلسطین میں اسیران کے امور پرنظر رکھنے والی تنظیم ’مہج القدس‘ کے مطابق حسن شوکہ کو اسرائیلی فوج نے 29 ستمبر 2017ء کو حراست میں لیا تھا۔ اس کی گرفتاری رہائی سے محض ایک ماہ کے اندر اندر عمل میں لائی گئی تھی۔11اکتوبر 2017ء کو اس نے انتظامی قید کیخلاف بھوک ہڑتال شروع کی جو 35 دن جاری رہی۔ اس کے بعد اسرائیلی حکام کی جانب سے فرد جرم عائد نہ کیے جانے کی یقین دہانی کے بعد شوکہ نے بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔بعد ازاں اسرائیل کی عوفر فوجی عدالت نے اسیر کی مدت حراست میں مزید چھ ماہ کی توسیع کردی تھی۔ جو تین جون کو ختم ہونا تھی مگر صہیونی حکام نے اسے رہا کرنے کے بجائے قید میں مزید توسیع کی کوششیں شروع کردی ہیں۔