کشمیری خاتون رہنما شمیم شال نے اقوام متحدہ میں کشمیری لڑکی آصفہ بانو کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کیس اٹھایا

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 38ویں اجلاس کے دوران یہ ایک بڑا اور اہم سائیڈ ایونٹ تھا، آصفہ بانو کیس اور کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سیرحاصل بحث ہوئی

پیر جون 17:46

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) کشمیری خاتون رہنما شمیم شال نے یورپین پارلیمنٹ کی دو اراکین کے ہمراہ اقوام متحدہ میں آٹھ سالہ کشمیری لڑکی آصفہ بانو کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کیس کو اٹھایا۔۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 38ویں اجلاس کے دوران یہ ایک بڑا اور اہم سائیڈ ایونٹ تھا جس میں آصفہ بانو کیس اور کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سیرحاصل بحث ہوئی۔

یہ سب ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں زیر بحث معاملات میں مسئلہ کشمیر سر فہرست ہے اور حال ہی میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے۔محترمہ شمیم شال نے "انٹرنیشنل مسلم وومن یونین" کی جنیوا میں نمائندہ کی حیثیت سے امریکی غیر سرکاری تنظیم "وومنز یو این رپورٹ نیٹ ورک" کے ہمراہ اس سائیڈ ایونٹ کا انعقاد کیا۔

(جاری ہے)

ایک غیر سرکاری تنظیم "گلوبل ایجوکیشن آپرچیونیٹی پروگرام" کے ڈائریکٹر آفٹن بیوٹلر نے کشمیر میں بھارت کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے میں انسانی حقوق کے اراکین کے کام کی تعریف کی۔ انہوں نے خاص طور پر کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق انسانی حقوق کے نمائندوں اور انسانی حقوق کونسل کو مسلسل آگاہ رکھنے پر محترمہ شمیم شال کو ان کی سالوں پر محیط انتھک کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا۔

یورپین پارلیمنٹ کی رکن محترمہ جولی وارڈ نے کشمیر کے متنازعہ خطے میں بھارت کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اپنے طویل تجربے کی بنیاد پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔یورپی پارلیمنٹ کی ایک اور رکن ایلیکس میئر نے حاضرین کی توجہ اس جانب دلائی کہ یورپی پارلیمان کے برطانوی اراکین اکثر مسئلہ کشمیر پر بات کرنے والے اکیلے اراکین ہوتے ہیں جبکہ اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر کام کرنے والے کارکن، برطانوی اراکین کے ساتھ یورپی پارلیمنٹ کے دیگر ممالک کے اراکین کو بھی مسئلہ کشمیر سے متعلق آگاہ کرنے کی کوشش کریں۔

اس موقع پر آصفہ بانو پر ایک مختصر دستاویزی فلم کے ذریعے ہال میں موجود بین الاقوامی انسانی حقوق کے نمائندوں کی توجہ آصفہ بانو کے معاملے کی سنگینی کی جانب مبذول کرائی گئی۔نٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ(یوتھ فورم فار کشمیر)، ایک غیر جانبداربین الاقوامی این جی او(NGO) ہے جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کیلئے کوشاں ہے۔