غیر قانونی شادی ہالز ازخود نوٹس،شادی ہالز والے بوریا بستراٹھائیں اور کوئی دوسرا کام کریں، چیف جسٹس

سی ڈی اے کو شادی ہالز فیس دینے کو تیار نہیں کیوں نہ غیر قانونی شادی ہالز کو گرا دیا جائے، چیف جسٹس کے ریمارکس

پیر جون 18:29

غیر قانونی شادی ہالز ازخود نوٹس،شادی ہالز والے بوریا بستراٹھائیں اور ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد میں قائم غیر قانونی شادی ہالز سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ وفاقی دارالحکومت میں شادی ہالز والے اپنا بوریا بستر اٹھائیں اور کوئی دوسرا کاروبار کریں، شادی ہالز سی ڈی اے کو فیس دینے کو تیار نہیں کیوں نہ غیر قانونی شادی ہالز کو گرا دیا جائے۔

پیر کو اسلام آباد میں قائم غیر قانونی شادی ہالز سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کی۔

(جاری ہے)

شادی ہالز کے وکیل نے عدالت میں موقف پیش کیا کہ سی ڈی اے کو اپنی حدود کا علم نہیں، سی ڈی اے نے کئی شادی ہالز کو زمین الاٹ نہیں کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سی ڈی اے کو کئی شادی ہالز فیس دینے کو تیار نہیں کیوں نہ غیر قانونی شادی ہالز کو گرا دیا جائے۔

وکیل شادی ہال نے جواب دیا کہ سی ڈی اے کو لائسنس فیس ادا کر رہے ہیں لیکن سی ڈی اے کو زمین کی نوعیت کی تبدیلی کے واجبات کیوں دیں۔ سی ڈی اے حکام نے کہا کہ زرعی زمین کو کمرشل میں تبدیل کرنے کے واجبات ادا کرنا پڑتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ من مرضی سے کوئی تعمیرات نہیں کر سکتا ہماری مہربانی کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے۔