ایمنسٹی اسکیم اچانک تبدیلیوں کی وجہ سے ناکامی کی جانب گامزن، صدر کراچی چیمبر

رواں مالی سال کی آمدنی کو اسکیم سے نکالنے، بیرون ملک اثاثوں کا تخمینہ لگانے کے فارمولے میں تبدیلی سے عوام کا اعتمادمجروح ہوگا، مفسر ملک

پیر جون 18:31

ایمنسٹی اسکیم اچانک تبدیلیوں کی وجہ سے ناکامی کی جانب گامزن، صدر کراچی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) کرچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر مفسر عطاملک نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) کی جانب سے رواں مالی سال کی آمدنی کو ایمنسٹی اسکیم سے نکالنے اور بیرون ملک اثاثوں کا تخمینہ لگانے کے فارمولے میں تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں اقدمات کی وجہ سے ایسے افراد کااعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے جو اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے خواہش مند تھے۔

ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ ان اقداما ت کی وجہ سے اُن افرادمیں ٹیکس حکام کی جانب سے ہراساں کرنے کا بھی خوف پایا جاتا ہے جنہوں نے پہلے سے ہی ان اسکیموں کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کیے۔مفسر عطا ملک نے چیف جسٹس پاکستان،، نگراں وزیر اعظم اوروزیر خزانہ سے ایف بی آرٍٍٍٍٍٍٍ کے ان غیر قانونی اقدامات کا فوری نوٹس لینے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ان غیرقانونی اقدامات کا اطلاق ایمنسٹی اسکیم پر پریس ریلیزز جاری کرکے اور اکثر پوچھے گئے سوالات( ایف اے کیوز) کے جوابات کی شکل میں ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ایمنسٹی اسکیم کے اختتام میں صرف 4 دن باقی رہ گئے ہیں اور ایسے حالات میں ایف بی آر کی وضاحتوں اور اپنے مفاد کے فیصلے نہ صرف ایمنسٹی اسکیم کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے بلکہ ملک کی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے حالانکہ ملک کو ایمنسٹی اسکیم کے تحت آنے والے فنڈز کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ غیر ملکی و مقامی اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیموں میں دو نئی وضاحتوں کے برے نتائج برآمد ہوں گے جس کے نتیجے میں لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی جنہوںنے ایک ماہ انتظار کے بعد اس اسکیم سے فائدہ اٹھانا شروع ہی کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کا فیصلہ جس میں یکم جولائی 2017سے لے کر9اپریل 2018کے دوران کمائی گئی آمدنی کو اس اسکیم سے نکالنا پارلیمنٹ کے والینٹری ڈیکلریشن آف ڈومیسٹک ایسٹس ایکٹ 2018 کی خلاف ورزی ہے جس میںواضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس ایکٹ کے روح کے مطابق کوئی بھی شخص ایف بی آر کو اپنے غیرظاہر شدہ مقامی اثاثے جو 10اپریل 2018سے قبل حاصل کیے گئے ہوں وہ ظاہر کرسکتا ہے جبکہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کے لیے اس سے منع کردیا ہے۔

مفسر ملک نے نشاندہی کی کہ یہ مایوس کن عمل ہے کہ ایف بی آر نے ایک اور وضاحت جاری کی جس کے مطابق غیر ملکی اثاثوں کی مالیت کا تخمینہ اسٹیٹ بینک ڈیکلیریشن جمع کرانے کی تاریخ کے ایکسچینج ریٹ کے مطابق کرے گا جس کی وجہ سے ایسے اثاثے جو کئی سال پہلے خریدے گئے ان کی ویلیو میں اضافہ ہوجائے گا۔ان وضاحتوں کے اطلاق سے مقامی و غیر ملکی اثاثوں پر لاگو ٹیکس ریٹ پارلیمنٹ کے منظور کردہ ریٹ سے کئی گنا زیادہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں اس اسکیم کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کم از کم دو ہفتوں سے ایک ماہ تک بڑھانے کا ہی راستہ رہ جاتا ہے جبکہ ایف بی آر اس سلسلے میں ایک تفصیلی وضاحت جس میں تاجربرادری کے تمام تر تحفظات کا جواب دیا جائے اسے جلد از جلد جاری کرے اور ریونیو بورڈ سختی سے پارلیمنٹ سے منظور کی گئی ایمنسٹی اسکیم کی اصل حالت کو متاثر نہ ہونے دے۔