طیبہ تشدد کیس، سابق جج راجہ خرم نے ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

پیر جون 18:52

طیبہ تشدد کیس، سابق جج راجہ خرم نے ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) طیبہ تشدد کیس میں سزا یافتہ اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے سابق جج راجہ خرم نے ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا پیر کے روز اعظم تارڑ ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے ایک سال کی قید اور 50 ہزار جرمانہ عائد کیا،اسلام ا?باد ہائیکورٹ نے سزا بڑھا کر 3 سال کردی، عدالت نے نہیں دیکھا کہ طیبہ کی درخواست پر دستخط تھے نہ انگوٹھا،متعلقہ عدالت نے طیبہ کے اپنے بیان کو بھی نظر انداز کیا، عدالت نے طیبہ کی گمشدگی کی ٹائمنگ کا بھی درست جائزہ نہیں لیا،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل اور ہائیکورٹ نے فیصلوں کی نظائر کا بھی درست جائزہ نہیں لیا،کیس میں آرٹیکل 10 اے کا حق بھی فراہم نہیں کیا گیا، درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل منظور کی جائے، طیبہ تشد کیس کے حوالے سے اسلام ا?باد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائی۔