ایون فیلڈ ریفرنس ،ْنواز شریف اور مریم کو مزید 3 دن کا استثنیٰ مل گیا

پاناما جے آئی ٹی کی رپورٹ اور تفتیشی افسر کی رائے ناقابل قبول شواہد ہے ،ْ خواجہ حارث اپنے پورے بیان میں واجد ضیاء پہلے دستاویز کا متن پڑھتے اور پھر رائے دیتے رہے ،ْدلائل

پیر جون 19:57

ایون فیلڈ ریفرنس ،ْنواز شریف اور مریم کو مزید 3 دن کا استثنیٰ مل گیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کے مزید تین دن کے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی گئی۔ پیر کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔جب سماعت شروع ہوئی تو جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ ملزمان میں سے کوئی بھی نظر نہیں آرہا۔

جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ کیپٹن (ر) صفدر تھوڑی دیر میں پیش ہوجائیں گے بعد ازاں کیپٹن صفدر عدالت پہنچے ۔وکیل نوازشریف نے کہاکہ نواز شریف اور مریم نواز بیرون ملک ہیں، اس حوالے سے درخواست جمع کرانی ہے سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی حاضری سے مزید 7 دن کے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔

(جاری ہے)

درخواست کے ساتھ بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی جس پر جج محمد بشیر نے نواز شریف اور مریم نواز کو حاضری سے 3 دن کا استثنیٰ دیدیا۔

اس موقع پر پراسکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ کلثوم نواز کی بیماری کے حوالے سے ڈاکٹر بہتر بتاسکتے ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ جو میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی، اس پر کسی ڈاکٹر کے دستخط نہیں ہیں جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ بیگم کلثوم نواز مسلسل بیمار اور وینٹی لیٹر پر ہیں۔بعد ازاں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی مزید سماعت (آج) منگل تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 19 جون کو سماعت کے دوران احتساب عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کو حاضری سے 4 دن کا استثنیٰ دیا تھا۔سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ، کینسر کے مرض میں مبتلا اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی عیادت کیلئے لندن میں موجود ہیں، جو اس وقت وینٹی لیٹر پر ہیں اور ان کی حالت تشویش ناک ہے۔۔سماعت کے باقاعدہ آغاز پر خواجہ حارث نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی کی رپورٹ اور تفتیشی افسر کی رائے ناقابل قبول شواہد ہے۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے بیان کے دوسرے حصے کے حوالے سے دلائل دیں گے۔دلائل کے دوران خواجہ حارث نے نکتہ اٹھایا کہ کسی اور کی پیش کردہ دستاویزات کا متن نواز شریف کے خلاف کیسے استعمال ہوسکتا ہی خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی نے 2 خطوط میں تضادات کی بات کی ہے، خطوط میں تضادات کا بتانا جے آئی ٹی کا کام نہیں عدالت کا تھا۔

انہوںنے کہاکہ تفتیشی افسر رائے دے کر اثر انداز ہو رہا ہے، واجد ضیاء یہ خط پیش تو کرسکتے تھے مگر کوئی کمنٹس نہیں کرسکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ قطری شہزادے کے 2 خطوط کا نواز شریف سے کچھ لینا دینا نہیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیاء کے بیان کے صفحہ نمبر 28 پر نواز شریف کا ذکر آرہا ہے، جہاں واجد ضیاء کہہ رہے ہیں کہ رقوم ادائیگی کی نواز شریف،، مریم، حسن، حسین نواز اور طارق شفیع نے کوئی دستاویز نہیں دی۔

اپنے دلائل کے دوران خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف پر جے آئی ٹی کے تحت فرد جرم عائد کی گئی، اس سیکشن کے تحت نوازشریف کا کوئی براہ راست تعلق استغاثہ نے نہیں بتایا صرف شریف فیملی کا ذکر ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ اپنے پورے بیان میں واجد ضیاء پہلے دستاویز کا متن پڑھتے اور پھر رائے دیتے رہے، ان کے بیان میں ایک تہائی حصہ بار بار چیزیں دہرائی گئیں۔۔نواز شریف کے وکیل کے مطابق واجد ضیاء نے کہا کہ ہم نے شواہد کا معائنہ کیا، ساتھ ہی انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ کیا معائنہ کرنا تفتیشی افسر کا کام ہی یہ عدالت کا کام ہے۔