شیرازی گروپ کو پی پی میں شمولیت کے بعد ضلع کی ایک قومی اور ایک صوبائی سیٹ کے ٹکٹ جاری ،جیالوں کو تحفظات

پیر جون 20:09

سجاول (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) سجاول ضلع بھرمیں ایک قومی اور دو صوبائی نشستوں پر انتخابات کے لئے مختلف امیدواروں نے فارم جمع کرائے ہیں جبکہ شیرازی گروپ کو پی پی میں شمولیت کے بعد ضلع کی ایک قومی اور ایک صوبائی سیٹ کے ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں ،جس پر مقامی پی پی کے مقامی پرانے جیالوں نے شدید تحفظات کا اظہارکیاہے ، سابقہ الیکشن میں پی پی ٹکٹ ہولڈر ارباب رمیزمیمن اور پروین جمال لغاری نے آزاد حیثیت میں فارم بھی جمع کرائے ہیں،جبکہ دیگرپی پی رہنمااور کارکن ناراض ہیں ،تاہم ذرائع کا کہناہے کہ پی پی قیادت نے ارباب رمیزمیمن سے رابطے کرکے اس کے خدشات دور کردئے ہیں جس کے بعد وہ پارٹی میٹنگز میں شریک ہورہے ہیں پی پی کے سابق صدر ارباب وزیرمیمن نے گذشتہ روز دڑو میں پی پی امیدوارں کو استقبالیہ دیاجس میں ان کے دیرینہ سیاسی حریف رہنے والے شیرازی گروپ کے رہنماوں نے بھی شرکت کی ،سجاول میں پی پی کے جلسہ میں بھی شیرازی گروپ کے رہنماشریک ہوئے اس طرح علاقے کے دو سیاسی حریف دھڑے یکجانظرآرہے ہیں جس سے الیکشن کو یک طرفہ کہاجارہاہے ، سجاول ضلع کی قومی سیٹ دو سو اکتیس پرپی پی کی جانب سے شیرازی گروپ کے سابق مملکتی وزیر ایاز شیرازی کو ٹکٹ جاری کیاگیاہے، جوسابقہ الیکشن میں اسی حلقہ سے آزاد جیت کر پی ایم ایل این میں شامل ہوئے اور مملکتی وزیر بنے اب پی پی میں شمولیت کے بعد ان کو پی پی ٹکٹ جاری کیاگیاہے ، اسی حلقہ سے عائشہ گلالئی بھی الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ،جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کی جانب سے کسی امیدوار کو ٹکٹ جاری نہیں کیاگیاہے ، جبکہ ایم ایم اے کی جانب سے مولانامحمد صالح الحداد اس حلقے سے امیدوار ہیں ، دیگرپارٹیوں کی جانب سے ٹکٹوں کا اعلان نہیں کیاگیاہے ،سجاول کے پی ایس ۵۷ پچہتر پر شیرازی گروپ کے شاہ حسین شاہ شیرازی پی پی کی ٹکٹ پر امیدوار ہیں ، سابقہ الیکشن میں آزاد حیثیت میں پی پی امیدوار کو ہراکرمنتخب ہوئے تھے اب پی پی کی ٹکٹ انہیں دی گئی ، جبکہ اسی حلقہ میں سابقہ الیکشن میں پی پی ٹکٹ پر شیرازی گروپ سے مقابلہ کرنے والی پروین جمال لغاری نے پی پی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت میں اس حلقے الیکشن لڑنے کا اعلان کیاہے ، ذرائع کا کہناہے کہ پی پی کی جانب سے تاحال ان سے لاتعلقی کا اظہارکیاجارہاہے ، جبکہ اسی حلقے سے ایم ایم اے کے امیدوار مولانامحمد اسماعیل قاسمی ہیں، دیگرآزاد امیدوارہیں اور دیگرپارٹیوں نے ٹکٹوں کا اعلان نہیں کیاہے ،اسی طرح سے پی ایس چھہتر۶۷ پر پی پی کی جانب سے محمد علی ملکانی کو ٹکٹ جاری کیاگیاہے سابقہ الیکشن میں اسی حلقے سے شیرازی گروپ میں آزاد حیثیت میں پی پی امیدوار کو شکست دیکر منتخب ہوئے تھے تاہم پی پی قیادت سے معاملات طے ہونے پر پی پی میں شامل ہوگئے اور انہیں وزارتیں اور پی پی کی ضلعی صدارت بھی دی گئی ،ان کے سامنے قابل ذکرامیدوار ایم ایم اے کے مولانانجیب اللہ قاسمی ہیں ،جبکہ دیگرپارٹیوں کے پارٹی ٹکٹ جاری نہ ہونے کی وجہ سے آزاد امیدوار ہیں ،اس طرح ضلع بھرمیں تینوں سیٹوں پر جی ڈی اے ، پی ٹی آئی ، سمیت دیگرپارٹیوں کے امیدوار سامنے نہ آسکے ہیں ، ضلع سجاول میں پی پی کی جنرل سیکریٹری ریحانہ لغاری کو بھی سندہ اسمبلی کی خواتین نشست پر پی پی کی لسٹ میں شامل کیاگیاہے ،سابقہ الیکشن میں بھی پی پی کی خواتین نشست پر ان کو وزیراعلیٰ کی معاون کے طورپر کئی وزارتیں دی گئیں، علاوہ سجاول ضلع سے تعلق رکھنے والی ہیرسوھو کو بھی خواتین کی مخصوص نشست پر پی پی کی لسٹ میں شام کیاگیاہے ،گذشتہ الیکشن میں ایم کیوایم کی خواتین نشست پر منتخب ہوئیں اور منحرف ہوکر پی پی میں شامل ہوگئیںتھیں ، سجاول ضلع میں دو سیاسی حریفوں کے یکجاہونے کے بعد الیکشن کی گہماگہمی پیدانہ ہوسکی ہے ، دیگرسیاسی پارٹیوں کی جانب سے پارٹی ٹکٹ جاری ہونے کے بعد علاقے میں انتخابی سرگرمیوں میں تیزی کا امکان ہے ،