پاکستان کومعاشی طور پر دوسرے ممالک پر انحصار کم کرنا ہو گا ، پاک امریکہ تعلقات میں تنائو کے باوجوددونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مفادات اور ضروریات کو سمجھیں ،پاکستان کو فیصلہ سازی کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ، تھنک ٹینک آئی پی آر نے پاک امریکہ تعلقات پر جامع رپورٹ جار ی کر دی

پیر جون 20:32

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے پاک امریکہ تعلقات پر ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے یہ رپورٹ آئی پی آر اور واشنگٹن میں قائم معروف تھنک ٹینک یونائیٹڈا سٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے تعاون سے تیار کی ہے۔ اس سلسلے میں آئی پی آر نے فیصلہ سازی ،سیکورٹی اور غیر ملکی پالیسی کے ساٹھ ماہرین کے انٹرویو کیے۔

رپورٹ کے مطابق تعلقات میں تنائو کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مفادات اور ضروریات کو سمجھیں ۔ آئی پی آر کی سٹڈی نے کوشش کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہائل خلاء کو پر کیا جائے ۔ آئی پی آر نے اپنی رپورٹ میں تمام ماہرین کے خیالات کو تبدیل کیے بغیر جوں کا توں پیش کیا ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کو آئی پی آر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہمایوں اخترخان اور اشرف حیات نے تحریر کیا ہے ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 9/11کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر آ گئے ہیں اور ان تعلقات کو صحیح طریقے سے کسی گائیڈ لائن کے بغیر انتہائی ناقص طریقے سے چلایا جا رہا ہے ۔دونوں ممالک نے 9/11کے بعد آپس میں باہمی تعلقات کو بڑھانے کیلئے کئی مواقع ضائع کیے ہیں ۔ابتدائی طور پر القاعدہ کو ختم کرنے کیلئے کام کیا گیا جو کہ ایک وسیع پارٹنر شپ پر مشتمل تھا لہذا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تنائو اس وقت بڑھاجب امریکہ کی خواہش تھی کے طالبان کو بھی القاعدہ کی طرح شکست دی جائے ۔

آئی پی آر کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن قائم کیا جائے لیکن امن قائم کرنے کیلئے دونوں کے طریقے مختلف ہیں کیونکہ دونوں کے مقاصد ایک جیسے نہیں ہیں ۔جہاں تک افغانستان میں انڈیا کے اثرات کا تعلق ہے پاکستان افغانستان میں ایک دوستانہ حکومت چاہتا ہے جبکہ امریکہ وہاں پر فوجی حل کاخواہاں ہے ۔اس کے اختلافات جیسے بھی ہوںاس کے باوجود پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اعتماد کی فضا پیدا کرنے کیلئے کوششیں جاری رکھنی چاہیے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان امریکہ کے تمام مطالبات پورے کرے۔

پاکستان کو چاہے کہ امریکہ کو واضح طور پر بتا دے کہ اس کیلئے کیا ممکن ہے اور کیانہیں۔۔امریکہ کو بھی چاہیے کہ افغانستان کی طرف سے کراس بارڈر دہشت گرد کاروائیوں کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے جبکہ پاکستان کو افغان طالبان کے افعال کا ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جا سکتا ۔۔پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ افغان طالبان پر زور دے کہ افغانستان کے اندر دوسرے طاقتور گروپوںکے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کریں نیز طالبان کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ طاقت کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اس کے علاوہ کابل میں طالبان حکومت افغانستان کے اندر مختلف دھڑوں ، امریکہ ، چین اور روس کیلئے بھی قابل قبول نہیں ہے۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکہ کی میانہ روی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیکورٹی اور معاشی تعلقات کو بہتر بنائے اور امریکہ کی بزنس کمیونٹی کووہی مراعات دے جو چین کو دی جار ہی ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکہ کی سپورٹ حاصل کرنے کیلئے اپنی کوششوں کو وسیع پیمانے پر پھیلا دے نیزپاکستان کو چاہیے کہ امریکہ کو باور کرائے کہ چین کے ساتھ اس کی پارٹنر شپ دوسرے اتحادیوں کیلئے غیر مناسب نہیں ہے۔

آئی پی آررپورٹ کے مطابق پاکستان کی پالیسی سازی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ملک کے اندر متفقہ طور پر کوئی سیکورٹی پالیسی نہیں ہے۔ منتخب قیادت نے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا ہے۔ معاشی کمزوریوں کی وجہ سے قومی سیکورٹی پر لچک دکھائی گئی ہے لہذا پاکستان کومعاشی طور پر دوسرے ممالک پر انحصار کم کرنا ہو گا ۔۔افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بہتر بنانے کیلئے پاکستان کو چاہیے کہ افغان طالبان کے سلسلے میں افغانستان کی مدد کرے نیز افغانستان کو بھی چاہیے پاکستانی کی سکیورٹی کو یقینی بنائے تا کہ سرحد پار سے ٹی ٹی پی کی کاروائیوں کو روکا جاسکے جیسا کہ حال ہی میں ملافضل اللہ کی ہلاکت ایک مثبت قدم ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کے باوجودپاکستان اپنے علاقائی تعلقات کو بہتر بنائے نیز بھارت کے ساتھ بھی تعلقات میں بہتری لائے۔