کو ئی بھی غذا ما ں کے دو دھ کا 100فیصد نعمل بدل نہیں ہو سکتی ،نگرا ن صو با ئی وزیر صحت ڈاکٹر سعدیہ رضوی

پیر جون 20:38

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) نگران وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر سعدیہ رضوی نے کہا ہے کہ نوزائیدہ بچوں میں اسہال (ڈائریا) اور دیگر بیماریوں کے باعث اموات کی شرح میں اضافہ کی اہم وجہ بریسٹ فیڈنگ کی افادیت سے ناواقفیت ہے۔ سندھ میں نوزائیدہ بچوں میں بریسٹ فیڈنگ صرف 37فیصد ہے، یہ بات انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈاکٹر عطاالرحمن آڈیٹوریم میں بریسٹ فیڈنگ کی اہمیت پر منعقد ہونے والے پہلے ٹریننگ ورکشاپ سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ورکشاپ کا انعقاد نیوٹریشن سپورٹ پروگرام پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن ، سوسائٹی آف آبٹیریشن نے ڈاؤ یونیورسٹی کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر کرتار ڈوانی، پروگرام مینیجر نیو ٹریشن پروگرام سندھ ڈاکٹر ظہور بلوچ،صدر پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن پروفیسر ڈاکٹر جمال رضا اور ڈاکٹر مظہر ممبر یونیسف سندھ نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

نگراں وزیر نے محکمہ صحت کے عملے پر زور دیا کہ ماؤں کو بریسٹ فیڈنگ کے فوائد سے آگاہ کرکے انہیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانے پر آمادہ کرنا محکمہ صحت کے عملے کی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے ماہرین اور حکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروگرام مینجر نیوٹریشن سپورٹ پروگرام ڈاکٹر ظہور بلوچ نے کہا کہ صوبے کے 12اضلاع جن میں کراچی کے 6اضلاع سمیت ، خیر پور، گھوٹکی، عمر کوٹ، تھرپارکر، نوشہروفیروز اور سانگھڑمیں محکمہ صحت کے عملے کو ماؤں کو بریسٹ فیڈنگ پر آمادہ کرنے کے لیے تربیت دی جارہی ہے۔

پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سندھ کے صدر پروفیسر جمال رضا نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں کی غذا کے متعلق قوانین میں بہتری لائی جائے اور عالمی ادارہ صحت کے 2016 ضابطے کے مطابق ملک میں تین برس سے کم عمر بچوں کے فارمولا چیک کی فروخت کے اشتہارات پر پابندی عائد کی جائے۔ ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر کرتارڈوانی نے کہا کہ بریسٹ فیڈنگ کے بارے میں آگاہی کے سلسلے میں ڈاؤ یونیورسٹی کے قائدانہ کردار کے متعلق بتایا اور یقین دلایا کہ خدمات کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔یونیسف کے ڈاکٹر مظہر نے کہا صوبے میں بچوں کی صحت کے متعلق پروگرام کے لیے بھر پور تعاون کا یقین دلایا ۔

متعلقہ عنوان :