نشہ اخلاقی قانونی سماجی طور پر تباہ کن و گناہ کبیرہ ہے ،ڈاکٹر مبین اختر

داخل مریضوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہو تی ہے اور والدین مکمل طور پر نا علم ہو تے ہیں ما ہرین کا خطاب

پیر جون 20:38

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) نشہ اخلاقی قانونی وسماجی طور پر تباہ کن ہی نہیں بلکہ یہ گناہ کبیرہ کے ذمرے میں آتاہے ۔سگریٹ سے ابتدائیے کے بعد شیشہ چرس،افیون اور پھر ہیروئن ، کرسٹل کے استعمال سے گزرنے کے بعد گھر والوں کیلئے بے سکونی کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کیلئے بھی باعث شرمندگی کا سبب بنتا ہے نشے کا استعمال معاشی گداگری ، جنسی بے راروی اور نفسیاتی بیماریوں کا سبب ہے۔

ان خیالات کا اظہار منتظم اعلیٰ کراچی نفسیاتی ہسپتال ڈاکٹر سید مبین اختر نے عالمی یوم انسداد منشیات کے موقع پر مرکزی سماعت گاہ میںمیڈیا بریفنگ کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا نشے کا استعمال جسم وجان کیلئے ہی باعث نقصان نہیں بلکہ اس سے ذہنی صلاحیتیں شدید متاثر ہوتیں ہیں اور دل ودماغ کو متاثر کر کے کھوکھلا کر دیتی ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جدید اعداد وشمار کے مطابق یوں تو دنیا بھر میں اس کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے لیکن گذشتہ چند سالوں سے ادارے میں داخل مریضوں میں اکثر یت نوجوانوں کی ہے جو باعث دکھ وتکلیف دہ امر ہے اور اکثر والدین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کب انکی اولاد اس قبیح فعل میں مبتلا ہوچکی ہے۔

انہون نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم ، تربیت نان نفقہ اور انکے بہتر مستقبل کیلئے رات دن ایک کردیتے ہیں۔ لیکن اُن پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ انکی جائز خواہشات کو لاڈ پیار کے ساتھ پوراکرنے کے علاوہ اور دیگر مشاغل پر بھی نظر رکھیں تاکہ انہیں بعد میں کسی پچھتاوے کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اگر ایسا ہوگیا ہے تو بجائے لعن طعن کرنے کے اسے ذہنی طور پر تیار کرکے فوری طور پر ماہر معالج سے رجوع کیا جائے اگر مریض زہنی طور پر تیار نہ ہو اور اُسے زبردستی داخل کرایا جائے تو نفرت غصہ علاج میں رکاوٹ کا سبب بننے کے علاوہ اُسے علاج کے بعد دوبارہ اُسی ماحول میں واپس لے جانے کا باعث بھی ثابت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ترین تحقیق اور عالمی معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے انسداذہنی ومنشیات کا علاج کر تے ہیںاور ہزاروں مریض صحتیاب ہوچکے ہیں خاتمے تک مشن جاری رکھیں گے۔ ہم ایسے مریضوں کو اسلامی مبلغین کے ذریعے دینی اخلاقی نشست بھی فراہم کر تے ہیں ۔ جس کے خاطرخواہ نتائج سامنے آئے ہیںاور وہ اس فعل کو بُرا محسوس کر تے ہیں اس سے نفرت کا اظہار ببھی کرتے ہیں۔

انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حکومتی سطح پر اسکو روکنے کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔۔منشیات ہر علاقے میں ہر تھانے کی حدود میں باآسانی دستیاب ہے اور اُس سے بھی افسوس ناک امر یہ ہے کہ اکثر شام کے اوقات میں 18سی25سال کے نوجوان شراب خانوں کے باہر بلا خوف وخطر آزادی سے یہ زہریلا زہر خریدکر پینے میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر قانون پر عملدرآمد اور نوجوانوںکے مستقبل کو محفوظ بناناہے تو اس سنگین صورتحال پر قابو پانا ہوگا ورنہ جرائم جنسی بے رواروی اور اخلاقی اقدار کا عفریت نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک کر سکتا ہے۔آخر میں انہوں نے تمام والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی جائز خواہشات پوری کرنے کے ساتھ انہیں وقت بھی مہیا کریں ۔