معدنیات سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کے لئے جدید سائنسی خطوط پر کام کرنے کی ضرورت ہے،ثناء اللہ

پیر جون 20:51

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے معدنیات وصنعت ثناء اللہ خان نے کہاہے کہ خیبرپختونخوا معدنیات کی دولت سے مالامال صوبہ ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بیش بہا قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کے لئے جدید سائنسی خطوط پر کام کیاجائے ۔معدنی وسائل کوبہتر اندازمیں استعمال میںلانے سے نہ صرف صوبے کی معیشت استحکام دینے میں مدد ملے گی بلکہ روزگارکے بھرپور مواقع بھی میسر آسکیںگے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے محکمہ معدنیات وترقی کے اعلیٰ حکام کی جانب سے محکمے کی کارکردگی کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پرکیا ۔اس موقع پر سیکرٹری محکمہ معدنیات سید محمد شاہ ،ایڈیشنل سیکرٹری نوشین اعظم ،ڈائریکٹر مائنزاینڈ منرلزفضل واحد،کمشنر مائنززیارت خان ،چیف انسپکٹر مائنزانجینئر فضل رازق،ڈپٹی چیف میاں فاروق اقبال،ڈائریکٹرپلاننگ یوسف علی اورڈائریکٹر ایکسپلوریشن عامر محمد کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام بھی موجودتھے۔

(جاری ہے)

حکام نے نگران صوبائی وزیر کومحکمہ معدنیات کے تینوں متعلقہ شعبوں ڈائریکٹوریٹ،انسپکٹوریٹ اورشعبہ کمشنریٹ سے تفصیلی طورپرآگاہ کیا۔حکام نے بتایا کہ محکمہ معدنیات نے کان کنی کے لئے پہلی دفعہ لائسنسنگ کے اجراء کے لئے آن لائن نظام متعار ف کرایاہے۔جس سے درخواست دینے کے عمل میںآسانی کے علاوہ لائسنسنگ کے عمل میںبھی شفافیت آئی ہے ۔

انہوںنے بتایا کہ گذشتہ دو سالوںکے دوران محکمہ معدنیات کو 2100 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔شعبہ انسپکٹوریٹ سے متعلق حکا م نے آگاہ کیا کہ ہرسال مائنزاورمزدورں کے تحفظ کے حوالے سے صوبے کے مختلف اضلاع میں مختلف دورانیہ کے تربیتی کورسزمنعقد کیے جاتے ہیں جس سے مائنز پر کام کرنے والے مزدورمستفید ہوتے ہیں۔حکام نے مزید بتایا کہ محکمہ معدنیات کاشعبہ کمشنریٹ کان کنی سے وابسطہ مزدوروںکی فلاح وبہبود کے لئے سرگرم عمل ہے اوراس سلسلے میںسال 2018-19 کے لئے مختلف فلاحی منصوبوںپرکام کررہا ہے ۔

ان منصوبوں میں مزدورں کومفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کیلئے ہیلتھ کارڈ ز سکیم کا اجراء کیا جائیگا جس سے پہلے مرحلے میں ایک ہزار مزدور مستفید ہوںگے جبکہ ہیلتھ کارڈکے اجراء کے لئے 2 سوملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔حکام نے بتایاکہ کان کنی سے پیدا ہونے والی مہلک بیماریوںکے روک تھام کے لئے بھی اقدامات کیے جارہے ہیںاورکان کنی سے مستقل طورپرمعذورہونے والے 2 سو مزدوروںکے لئے 40 ملین روپے مختص کیے گئے ہیںجس کے تحت معذورہونے والے فی مزدور کوتین لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

اس کے علاوہ مزدورں کے بچوںکو پرائمری سے لیکرماسٹر تک تعلیم حاصل کرنے کے لئے دئے جانے والے وظائف کی شرح میںخاطرخواہ کیاگیاہے ۔حکام نے نگران وزیر کوسال 2019-20 کے حوالے سے مزدوروںکے لئے کی جانے والی منصوبندی سے متعلق بتایا کہ صوبے میں 30 ملین روپے کے لاگت سے ریکریشنل سنٹرز کے قیام ،پینے کے صاف پانی اورآبنوشی کی دیگر سکیموںکے لئے 70ملین اورمزدورںکی ہاؤسنگ سکیم کے قیام کے لئے 150 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

حکا م نے سالا نہ ترقیاتی پروگرام اورمستقبل میں محکمہ معدنیات کی جانب سے معدنی ترقی کے لئے شروع کیے جانے والے مجوزہ پراجیکٹس سے متعلق بھی صوبائی وزیر کو تفصیلی طورپر آگا ہ کیا۔نگران وزیربرائے معدنیات نے محکمے کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ پراطمینان کااظہار کیا اورمحکمے کے حکام کوہدایت دی کہ غیرقانونی کان کنی کی مکمل روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ اس قیمتی دولت کومحفوظ بناکرصوبے کے محاصل میںبھرپوراضافہ کیا جاسکے۔انہوں نے حکا م پر زوردیا کہ محکمہ معدنیات کان کنی کوسائنسی بنیادوں پر فروغ دینے کے لئے ترجیحی بنیادوں پراقدامات کریں تاکہ اس شعبے میں ترقی حاصل کی جاسکے۔