پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار ثقافتی تعلقات قائم ہیں، پائیدار ثقافتی تعلقات ہمیشہ کے لئے رہتے ہیں جس سے محبت، پیار بڑھتا اورتعلقات کی آبیاری ہوتی ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) چین کے ون روڈ ون بیلٹ کا کامیاب ترین منصوبہ ہے، دو طرفہ ثقافتی تبادلے بہت اہمیت کے حامل ہیں، پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ، سیاسی اور معاشی تعلقات کے بعد اب ثقافتی تعلقات بھی مزید مستحکم ہورہے ہیں

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بیرسٹر سید علی ظفر کا "چائنہ ان سٹیمپس" نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب

پیر جون 21:51

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات،،نشریات،قومی تاریخ و ادبی ورثہ بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار ثقافتی تعلقات قائم ہیں ،پائیدار ثقافتی تعلقات ہمیشہ کے لئے رہتے ہیں جس سے محبت،پیار بڑھتا اورتعلقات کی آبیاری ہوتی ہے ،،چین پاکستان اقتصادی راہداری ((سی پیک)) چین کے ون روڈ ون بیلٹ کا کامیاب ترین منصوبہ ہے ، دو طرفہ ثقافتی تبادلے بہت اہمیت کے حامل ہیں ،،پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ،سیاسی اور معاشی تعلقات کے بعد اب ثقافتی تعلقات بھی مزید مستحکم ہورہے ہیں۔

وہ پیر کو پی این سی اے میں سٹیمپس کے ذریعے چینی ثقافت کے فروغ کے حوالے سے "چائنہ ان سٹیمپس" نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔

(جاری ہے)

ڈی جی پی این سی اے جمال شاہ ،چینی سفارتخانے کے حکام اور وفود بھی تقریب میںشریک تھے ۔ وفاقی وزیر بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین دوستانہ تعلقات، معاشی اور سیاسی تعلقات کے بعد اب ثقافتی سطح پر بھی تعلقات مزید مستحکم ہورہے ہیں جو کہ خوش آئند ہیں ، دونوں ممالک کے عوام سے عوام تک کے رابطے بھی اہمیت کے حامل ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ چین میں پہلی پرواز پی آئی اے کی اتری تھی جب دنیا مشرق اور مغرب میں تقسیم ہوگئی تھی اور تعلقات سے زیادہ مفادات کے ترجیح دی جارہی تھی تو اس وقت بھی پاکستان نے چین کے ساتھ دوستی کو ترجیحی دی اور چین کے ساتھ کھڑا ہوا ،امریکی نمائندہ ہنری کسنجر کا دورہ چین بھی پاکستانی رابطوں اور تعاون کے باعث ہی ہوا تھا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی معاملے میں اپنے دوست ملک چین ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کا ون روڈ ون بیلٹ منصوبے میں راہداری سے متعلق منصوبوں میں سی پیک کامیاب ترین منصوبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثقافت بھی بہت تاریخی ،خوبصورت اور وسیع ہے ، پاکستان میں معاشرتی روایات، شادی تقریبات ، ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا اوربات چیت کا طریقہ بھی ثقافت کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی تبادلوں سے ثقافت ظاہر ہوتی ہے، دوطرفہ ثقافتی وفود کے تبادلے بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔

وفاقی وزیر سید علی ظفر نے کہا کہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی ) میں چینی ثقافت کے فروغ کے حوالے سے بہت صلاحیتیں موجود ہیں ،پی این سی کا ثقافت کے فروغ کے حوالے سے کردار قابل ستائش ہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ ادوار میں پاکستان میں برٹس سینٹر ،فرنچ سینٹرز فعال تھے ،اب ثقافت کے فروغ کے لئے وہ ہی کام پی این سی میں چائنہ سینٹر بھی کرسکے گا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی ثقافت سے آگاہی اور چینی زبان سکھینے کے لئے پاکستانی عوام بالخصوص نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ثقافت کے فروغ کے لئے سٹیمپس اہم ذریعہ ہوتے ہیں ،سٹیمپس کے ذریعے ہی ایک دوسرے ملک کے عوام اس ملک کی سیاست، تاریخ ،ثقافت کے حوالے سے بہتر طریقے سے جان سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین بہت سے آئیڈیاز کو لیکر آگے چل سکتے ہیں ،ثقافت کے فروغ کے لئے وزارت اطلاعات و نشریات بھر پور کردار ادا کر رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم آزادی اظہار رائے،معلومات تک رسائی اور آزادی صحافت پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کے پاس دو ماہ کی آئینی مدت ہے اگر کسی بھی معاملے میں زیادہ وقت درکار ہوا تو آئندہ منتخب حکومت کے لئے قابل عمل گائیڈ لائنز چھوڑ کر جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اچھی طرز حکمرانی میں معلومات کی فراہمی سے کرپشن سمیت بہت سے مسائل حل ہوجاتے ہیں ۔