الیکشن التواء کا کوئی خدشہ نہیں ہے عام انتخابات کا انعقاد 25جولائی کو ہی ہو گا، صاف ،شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا، یورپی یونین ، ایشیاء ریجن سمیت عالمی مبصرین کو طریقہ کار کے مطابق اجازت دی جائے گی، فاٹا انضمام کے بعد سہولیات فراہم کرنے کے لئے کمیٹی کام کر رہی ہے، تمام سٹیک ہولڈرز سے بات چیت ہوگی ،آئین کے مطابق فاٹا میں ایم این ایز کے الیکشن عام انتخابات کے ساتھ ہی جبکہ صوبائی اسمبلی کے لئے الیکشن کا انعقاد ایک سال کے اندر ہوگا ،الیکشن کمیشن کے رولز کے تحت جس بھی حلقہ میں الیکشن کے دوران خواتین کا ٹرن آئوٹ مقررہ شرح سے کم ہوگا وہاں پرالیکشن کمیشن دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دے سکتا ہے

نگران وفاقی وزیر اطلاعات،نشریات،قانون،انصاف وپارلیمانی امور بیرسٹر سید علی ظفر کی صحافیوں سے گفتگو

پیر جون 21:55

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) نگران وفاقی وزیر اطلاعات،،نشریات،قانون،انصاف وپارلیمانی امور بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ الیکشن التواء کا کوئی خدشہ نہیں ہے عام انتخابات کا انعقاد 25جولائی کو ہی ہو گا، صاف ،شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا، یورپی یونین ،ایشیاء ریجن سمیت عالمی مبصرین کو طریقہ کار کے مطابق اجازت دی جائے گی، فاٹا انضمام کے بعدسہولیات فراہم کرنے کے لئے کمیٹی کام کر رہی ہے، تمام سٹیک ہولڈرز سے بات چیت ہوگی ،آئین کے مطابق فاٹا میں ایم این ایز کے الیکشن عام انتخابات کے ساتھ ہی جبکہ صوبائی اسمبلی کے لئے الیکشن کا انعقاد ایک سال کے اندر ہوگا ،،الیکشن کمیشن کے رولز کے تحت جس بھی حلقہ میں الیکشن کے دوران خواتین کا ٹرن آئوٹ مقررہ شرح سے کم ہوگا وہاں پرالیکشن کمیشن دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دے سکتا ہے ۔

(جاری ہے)

وہ پیر کو ’’پی این سی اے‘‘ میں تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر بیرسٹر سیدعلی ظفر نے کہا کہ جہموریت کے استحکام کے لئے میڈیا کا اہم کر دار ہے ،ملک میں صاف ،شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے لئے تمام اداروں کا کلیدی کردار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت نے صاف ،شفاف الیکشن کو یقینی بنانے کے لئے وفاق اور چاروں صوبوں کی بیوروکریسی میں تبدیلیاں کیں ہیں، جہاں پر بھی خدشہ ہو کہ افسران انتخابات پر اثر انداز ہورہے ہیں یا کسی امیدوار کی مدد یا مخالفت کررہے ہیں یا وہ کسی بھی طرح جانبدار بن رہے ہیں تو ان اس حوالے سے شکایات پر حکومت فوری ایکشن لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شفاف الیکشن ہی قومی مفاد میں ہے اسکے لئے حکومت ہر سطح پر اقدامات اٹھا رہی ہے۔ وفاقی وزیر سید علی ظفر نے کہا کہ عام انتخابات 2018کے لئے طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق عالمی مبصرین کو عام انتخاب کے لئے پاکستان آنے کی اجازت دی جائے گی ،جن جن ممالک کے آبزورز کی درخواستیں موصول ہونگی ان پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پولنگ سٹیشنوں کی فول پروف سکیورٹی کے لئے اقدامات اٹھا رہے ہیں جو پولنگ سٹیشن جتنے حساس ہونگے اسکے مطابق سکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جارہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن ملتوی ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ، الیکشن بروقت 25 جولائی کو ہی ہونگے ،کچھ عرصہ قبل افواہیں چلی تھیں لیکن اب سب کو یقین ہو گیا ہے کہ الیکشن ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے ساتھ ہی فاٹا میں قومی اسمبلی کے الیکشن ہونگے،آئین میں درج ہے کہ فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن ایک سال کے اندر ہونگے ،جب تک آئین میں لکھا ہے تب تک فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن کے حوالے سے از خود کچھ نہیں کر سکتے۔