لاہورہائیکورٹ کے ایپلٹ ٹربیونل نے عمران خان کو این اے 95 میانوالی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے اہل قرار دیئے دیا

پیر جون 21:56

لاہور۔25 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) لاہورہائیکورٹ کے ایپلٹ ٹربیونل نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو حلقہ این اے 95 میانوالی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دیے دیا،، ایپلٹ ٹربیونل نے ریٹرنگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

(جاری ہے)

لاہورہائیکورٹ کے ایپلٹ ٹریبیونل کے جسٹس فیصل زمان خان نے این اے 95 میانوالی سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف عمران خان کی اپیل پر سماعت کی.

عمران خان نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف ایپلٹ ٹربیونل میں اپیل دائر کی تھی. چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے بابر اعوان نے دلائل دیی. بابر اعوان نے دلائل دیے کہ عمران خان نے اپنے مکمل اثاثے ظاہر کیے ہیں. ریٹرنگ آفیسر نے تکنیکی بنیادوں پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے ہیں ریٹرننگ آفیسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیی..عمران خان پر بروقت بیان حلفی جمع نہ کرانے کا الزام لگا کر کاغذات مسترد کیے گئی.

اس کے علاوہ اثاثوں کی مالیت ظاہر نہ کرنے کا الزام لگا کر کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں. اپیل کنندہ عمران خان کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ایپلٹ ٹربیونل ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی. دوسری جانب اعتراض کنندہ جہاندار خان کے وکیل نے دلائل دیے کہ عمران خان کے حلف نامہ اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ نہیں ہیں.ہر صفحے پر عمران خان کے دستخط مختلف ہیںاور اپنے بچوں کے اثاثے ظاہر نہیں کیے جبکہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے لیکن بیٹی کا ذکر نہیں کیا.

الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈائریکٹر لیگل چوہدری عمر حیات عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ آفیسر نے قانون کے مطابق کاغذات نامزدگی مسترد کیے ہیں. لہذا عمران خان کی اپیل خارج کی جائی. عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا بعدازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور عمران خان کو این اے 95 سے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دے دیا۔