جمہوریت کو میڈیا کی ضرورت ہے ، نگران حکومت مکمل غیر جانبدار ہے ، بلیم گیم کا حصہ بنے بغیر تمام وزارتوںاور شعبوںکے حوالے سے حقائق قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں، جمہوریت کومعاشی عدم مساوات ،عدم برداشت اور جھوٹی خبروںجیسے خطرات کا سامنا ہے، ہم سب کا ہدف یہ ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اس کے لئے تمام معلومات ،حقائق قوم کے سامنے رکھنے ہونگے، شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن ہمارا ہدف ہے ،نگران حکومت دن رات کام کر رہی ہے،حکومت کو شفاف انداز سے چلانے کے لئے میڈیا کو آن بورڈ لینا ضروری ہے ، میڈیا بہتری کے لئے حکومت کی راہنمائی کرے

وفاقی وزیر اطلاعات،نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ بیرسٹر سید علی ظفر کا سی پی این ای کی ایڈیٹرز سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

پیر جون 21:57

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات ،نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ جمہوریت کو میڈیا کی ضرورت ہے ، نگران حکومت مکمل غیر جانبدار ہے ،بلیم گیم کا حصہ بنے بغیر تمام وزارتوںاور شعبوںکے حوالے سے حقائق قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں،،جمہوریت کومعاشی عدم مساوات ،عدم برداشت اور جھوٹی خبروںجیسے خطرات کا سامنا ہے،ہم سب کا ہدف یہ ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اس کے لئے تمام معلومات ،حقائق قوم کے سامنے رکھنے ہونگے، شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن ہمارا ہدف ہے ،،نگران حکومت دن رات کام کر رہی ہے،حکومت کو شفاف انداز سے چلانے کے لئے میڈیا کو آن بورڈ لینا ضروری ہے ،میڈیا بہتری کے لئے حکومت کی راہنمائی کرے۔

وہ پیر کو سی پی این ای کی ایڈیٹرز سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا کہ حکومت کو شفافیت سے چلانا چاہیے ،حکومت کو شفافیت سے چلانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ معلومات عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں ، میڈیا کو بھی آگاہ رکھا جائے کہ ہر فیصلے کے پیچھے کیا وجوہات اور حقائق ہیںجب تک ایسا نہیں ہوگا اس وقت تک حکومت ٹھیک طریقے سے نہیں چل سکے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کا ہدف ایک ہی ہے کہ کرپشن ختم کی جائے حقیقت میں کرپشن تب ہی ختم ہوگی جب ٹرانسپرنسی ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ مجھے جتنی بھی وزارتوں کا قلمدان دیا گیا ہے ان کو میں سب سے پہلی ہدایت یہ دی ہے کہ شفافیت کے ساتھ چلیں ،بلیم گیم کے بغیر جو بھی ابھی تک کے حقائق ہیں وہ عوام کے ساتھ شیئر کیے جائیں ،حقائق قوم تک پہنچ جائیں گے تو ماہرین اس پر بحث کر کے ان کا حل بھی بتاسکیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو میڈیا کی ضرورت ہے ،،جمہوریت کو اس وقت تین بڑے خطرات کا سامنا ہے ان میںجمہوریت کوسنجیدہ خطرہ معاشی عدم مساوات ہے، نچلی سطح تک معاشی مساوات کے لئے اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت ہے ،دوسرا خطرہ عدم برداشت ہے ، انتہا پسندی کی وجہ سے تقسیم کے باعث معاشرے میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے اس پر غور کیا جائے اور اسے کم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔

جمہوریت کو تیسرا خطرہ فیک نیوز(جھوٹی خبروں ) سے ہے ، خبروں کی اشاعت اور نشر کرنے سے پہلے تصدیق ضرور ہونی چاہیے۔ وفاقی وزیر سید علی ظفر نے کہا کہ میڈیا کے اس فورم کے پاس اگر حکومت کے لئے کوئی تجویز ہے تو ہمیں دی جائے ،بہتری کے لئے اس پر غور کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی وزارت اطلاعات کے کنٹرول میں ہے ہم نے پی ٹی وی کو مینڈیٹ دیا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو مساوی وقت دے ، اس کو مانیٹر بھی کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر جب گرینڈ ڈیبیٹ ہوتی ہے تو اس میں امیدواران اپنے پارٹی منشور ،معاشی اہداف ، مسائل ،سماجی ایشوز پر بات نہیں کرتے ،میری تجویز ہے کہ الیکشن کے قریب پی ٹی وی پر گرینڈ ڈبیٹ پروگرام کا آغاز کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور عوام کو جب معلومات ملے گی تو تبدیلی حقیقی معنوں میں شروع ہوجائے گی ، اگر سب کچھ بتایا جائے تو بحث کے بعد کوئی حل سامنے آئے گا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وقت شاہد اتنا نہ ہو لیکن جو کر سکتا ہوں وہ ضرور کروں گا ،آزادی اظہار رائے ،آرٹیکل 19-Aکے حوالے سے کام کرسکتے ہیں اور نگران حکومت گائیڈ لائن آئندہ منتخب حکومت کے لئے دے کے جائے گی ،اگرگائیڈ لائنز قابل عمل ہوں تو آئندہ منتخب حکومت کے لئے مشکل ہوگا کہ وہ ان گا ئیڈ لائن کو چھوڑ ے۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کی کابینہ کے پہلے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ صاف ، شفاف ،غیر جانبدارانہ الیکشن کے لئے الیکشن کمیشن کو ہر ممکن تعاون اور سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ الیکشن صاف شفاف ،پرامن اور بروقت الیکشن ہوں ،اسکے ساتھ ساتھ حکومتی روز مرہ امور بھی شفافیت کے ساتھ چلارہے ہیں۔

قبل ازیں سی پی این ای ایڈیٹرز سٹینڈنگ کمیٹی کے ممبران نے مختلف مسائل بھی وفاقی وزیر کے سامنے رکھے ،وفاقی وزیر نے مسائل کے جلد حل کی یقین دہانی کرائی ۔