تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن سے ایک اور حلقہ چھین لیا، این اے 118 میں تحریک انصاف کے چرچے

حالیہ سروے میں 38 فیصد ووٹرز پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ,31 فیصد مسلم لیگ ن کے ساتھ ،20 فیصد تحریک لبیک جبکہ 10 فیصد پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر جون 20:12

تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن سے ایک اور حلقہ چھین لیا، این اے 118 میں تحریک ..
ننکانہ صاحب(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 جون 2018ء) : تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن سے ایک اور حلقہ چھین لیا، این اے 118 میں تحریک انصاف کے چرچے ہونے لگے۔ حالیہ سروے میں 38 فیصد ووٹرز پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ,31 فیصد مسلم لیگ ن کے ساتھ ،20 فیصد تحریک لبیک جبکہ 10 فیصد پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں اس وقت ہر جگہ الیکشن کے چرچے ہیں۔

ایک جانب عوام الیکشن 2018 کے انتخابات پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں تو دوسری جانب سیاسی پنڈت بھی اس الیکشن کو پاکستان کی پارلیمانی سیاست کا اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مسلسل تیسری مرتبہ انتقال اقتدار کا مرحلہ جمہوری طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔الیکشن تو 25 جولائی کو ہی انعقاد پذیر ہوں گے مگر انتخابی معرکے کا زور کس کے سر رہے گا اس پر چہ میگوئیاں ابھی سے شروع ہو چکی ہیں۔

(جاری ہے)

ہر سیاسی پہلوان اپنے مخالف کو سیاسی میدان میں شکست دینے کے لیے بیتاب ہوچکا ہے۔اس حوالے سے مختلف حلقوں میں سروے بھی کروائے جارہے ہیں۔اہم ترین حلقوں میں ہونے والے سروے انتخابات کے نتائج کے حوالے سے ایک عمومی اندازہ بھی پیش کررہے ہیں جس سے صورتحال واضح ہو رہی ہے کہ کس علاقے میں کس امیدوار کی سیاسی ساکھ زیادہ تگڑی ہے۔اس حوالے سے اہم ترین حلقے این اے 118 میں کئیے گئے سروے نے سیاسی پنڈتوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔

این اے 118 ننکانہ صاحب کا وہ اہم ترین حلقہ ہے جہاں 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 38 فیصد ووٹ حاصل کئیے تھے جبکہ آزاد امیدوار اعجاز شاہ نے اس حلقے سے 34 فیصد ووٹ حاصل کئیے تھے جبکہ بقیہ ووٹ دیگر آزاد امیدواروں اور پارٹیوں نے حاصل کئیے۔
11مسلم لیگ ن کے ایم این اے منصب کی وفات کے بعد جب انکی صاحبزادی شذرہ منصب نے ضمنی الیکشن لڑا تو صورتحال کچھ یوں تھی کہ ن لیگ نے اس حلقے سے 58 فیصد ووٹ حاصل کئیے تھے
۔

تاہم اب حالیہ سروے کے مطابق دیگر کئی حلقوں کی طرح این اے 118 بھی مسلم لیگ ن کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔موجودہ سروے کے مطابق تحریک انصاف اس وقت 38 فیصد ووٹرز کی حمایت رکھتی ہے۔گزشتہ انتخابات کی فاتح جماعت مسلم لیگ ن 31 فیصد ووٹر کی حمایت حاصل کر پائی ہے۔تحریک لبیک کو 20 فیصد ووٹر کی حمایت حاصل یے جبکہ پیپلز پارٹی کو 10 فیصد سیاسی ہمدردیاں حاصل ہیں ۔
یوں مسلم لیگ ن کے ہاتھوں ایک اور حلقہ نکل چکا ہے اور تحریک انصاف کی گرفت اس پر مضبوط ہے۔