بلوچستان بھر کے اساتذہ جی ٹی اے بی کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیں تاکہ اساتذہ کے حقوق کے حصول کیلئے دیانت دار قیادت کومنتخب کرکے تنظیم کی فعالیت اور اساتذہ کے حقوق کے حصول کو ممکن بنایاجاسکے، گورنمنٹ ٹیچرزایسوسی ایشن بلوچستان کے 66ہزار مرد وخواتین اساتذہ کی نمائندہ تنظیم ہے جو جمہوری تسلسل ،بے لاگ احتساب اور اجتماعی مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کرتی چلی آرہی ہے،گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے رہنماء کی پریس کانفرنس

پیر جون 22:15

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے رہنماء مجیب اللہ غرشین اور یار جان بزنجو سمیت دیگر نے اساتذہ اکرام سے اپیل کی ہے کہ وہ یکم جولائی 2018ء کو ہونے والے جی ٹی اے بی کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیں تاکہ اساتذہ کے حقوق کے حصول کیلئے دیانت دار قیادت کومنتخب کرکے تنظیم کی فعالیت اور اساتذہ کے حقوق کے حصول کو ممکن بنایاجاسکے ،نام نہاد غیر آئینی الیکشن کمیٹی کی جانب سے نادہندہ عہدیداروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کاکوئی اخلاقی جواز نہیں ہے صوبائی کونسلران،اساتذہ رہنمائوں اور سینئر اساتذہ نے متفقہ طورپرمذکورہ نوٹیفکیشن کو مستردکرتے ہوئے عبدالمجید ملکانی اور عقیل شاہ پرمشتمل الیکشن کمیٹی کویکم جولائی کو انتخابات کرانے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار انہوں نے اساتذہ کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ گورنمنٹ ٹیچرزایسوسی ایشن بلوچستان کے 66ہزار مرد وخواتین اساتذہ کی نمائندہ تنظیم ہے جو جمہوری تسلسل ،بے لاگ احتساب اور اجتماعی مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کرتی چلی آرہی ہے ،مگر بدقسمتی سے گزشتہ3سال سے تنظیم پر سلیکشن کے ذریعے مسلط ہو نے والی صوبائی کابینہ نے تنظیم کے مسائل حل کرنے کی بجائے بیوروکریسی اور ضلعی انتظامیہ کے عتاب میں جھونک کران کی B ٹیم کاکرداراداکیا تنظیمی آئین سے ماورا اقدامات شروع کئے جس کی واضح مثال پرنسپل اور ہیڈماسٹرز کو تنظیم کے عہدیدار بناناہے انہوں نے کہاکہ صوبائی کابینہ 2سال تک آپس میں الجھتی رہی نہ صرف معاملات کوعدالتوں تک پہنچائے بلکہ ایک دوسرے پر تنظیمی چندے اور فنڈز خوردبرد کرنے کے الزامات بھی لگائے ،انہوں نے کہاکہ صوبائی کونسلران نے اپنی ریکوزیشن پر اجلاس طلب کرکے صوبائی کابینہ کو فارغ کیا اور آرگنائزنگ کمیٹی بنائی جس کو تنظیمی آمدن واخراجات کاآڈٹ اور صوبائی انتخابات کرانے کا مینڈیٹ دیاگیا اس کے بعد سابقہ قائدین نے تنظیم میں اختلافات کے خاتمے اور تنظیم کو بحران سے نکالنے کی غرض سے متفقہ طورپر صوبائی آمدن واخراجات کے آڈٹ کیلئے حافظ عبدالرحیم گاجانی ،عبداللہ جان موسیٰ خیل اور مراد بخش بلوچ پرمشتمل کمیٹی تشکیل دی جبکہ صوبائی انتخابات کیلئے حاجی عبدالکریم ،حاجی عبدالغفار کدیزئی اور حاجی محمد حسن لہڑی پرمشتمل کمیٹی بنائی اور ساتھ ہی فیصلہ کیاکہ آڈٹ کلیئرنس نہ دینے والے عہدیداران الیکشن میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہونگے جس کا پریس کانفرنس کے ذریعے اعلان کیا گیا انہوں نے کہاکہ اس کے بعد مذکورہ عہدیداروں کی جانب سے آڈٹ کلیئرنس نہ کرنے کے بعد الیکشن کمیٹی پر جانبداری کاالزام لگا کر ان سے دستبرداری کا مطالبہ کیا6جون کو الیکشن کمیٹی نے انتخابات کرانے سے معذرت کرتے ہوئے ڈویژنل صدور پرمشتمل الیکشن کمیٹی تشکیل دینے کااعلان کیا جو تنظیمی آئین کے خلاف اقدام تھا جس کو صوبے بھر کے کونسلران نے مسترد کیا جس کے بعد تنظیم مزید بحران کاشکار ہوگئی ایسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے صوبائی کونسل جو تنظیم کا سپریم ادارہ ہے کے ذریعے غیر جانبدار کمیٹی تشکیل ہونی تھی مگرسابقہ عہدیداروں نے غیر آئینی طورپراپنے ہمنوار افراد پرمشتمل الیکشن کمیٹی بنائی جس کے ارکان نے خود ووٹرز بھی ہیں اور سابق نادہندہ عہدیداران کے حمایتی بھی ان تمام تر غیر آئینی عملیات کے باوجود ہم نے تنظیم کے مفاد میں نامزدگی فارم وصول کرکے چند آئینی اعتراضات اٹھائے لیکن نام نہاد جانبدار الیکشن کمیٹی سے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا،23جون 2018ء کو نام نہاد الیکشن کمیٹی نے سابق نادہندہ عہدیداروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے انہوں نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ یکم جولائی 2018ء کو ہونے والے جی ٹی اے بی کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیں تاکہ اساتذہ کے حقوق کے حصول کیلئے دیانت دار قیادت کومنتخب کرکے تنظیم کی فعالیت اور اساتذہ کے حقوق کے حصول کو ممکن بنایاجاسکے ،انہوں نے کہاکہ اساتذہ کے مفاد اور تنظیم کو تباہی سے بچانے کیلئے ہر حد تک جائیںگے ۔