کچھ لوگ الیکشن سے قبل گرفتار ہوکر سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں، کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ نیب سیاستدانوں کو گرفتار کرے تاکہ وہ الیکشن سے قبل سیاسی شہید بن جائیں، نیب کسی کی خواہش کے مطابق گرفتاریاں نہیں کرتا بلکہ تمام کیسز میں گرفتاریاں میرٹ پر ہوں گی، نیب ہیڈکوارٹر کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی، لیکن زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے،آنے والے دنوں میں میگا کرپشن کیسز کے اکثر مقدمات ریفرنس کی صورت میں احتساب عدالتوں میں ٹھوس شواہد کے ساتھ اور قانون کے مطابق دائر کردیئے جائینگے

چیئرمین قومی احتسا ب بیورو جاوید اقبال کا نیب کمپلیکس لاہور کے دورہ کے موقع پر نیب افسران سے خطاب

پیر جون 22:19

کچھ لوگ الیکشن سے قبل گرفتار ہوکر سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں، کچھ لوگ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) چیئرمین قومی احتسا ب بیورو((نیب ))ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہکچھ لوگ الیکشن سے قبل گرفتار ہوکر سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ نیب سیاستدانوں کو گرفتار کرے تاکہ وہ الیکشن سے قبل سیاسی شہید بن جائیں، تاہم نیب کسی کی خواہش کے مطابق گرفتاریاں نہیں کرتا بلکہ تمام کیسز میں گرفتاریاں میرٹ پر ہوں گی، نیب ہیڈکوارٹر کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی، لیکن زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، میگا کرپشن مقدمات کو فائلوں سے نکالا اور انکی گرد صاف کی جسکی وجہ سے میگا کرپشن مقدمات میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی،آنے والے دنوں میں میگا کرپشن کیسز کے اکثر مقدمات ریفرنس کی صورت میں احتساب عدالتوں میں ٹھوس شواہد کے ساتھ اور قانون کے مطابق دائر کردیئے جائینگے، بدعنوانی کیخلاف نیب کا بلا تفریق جہاد جاری رہے گا۔

(جاری ہے)

پیر کو نیب کمپلکس لاہور کے دورہ کے موقع پر نیب افسران سے اپنے خطاب میں چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب ہیڈکوارٹر کو بارود سے اڑانے کی دھمکی دی گئی، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالی اور اللہ کے رسولؐکے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے۔70 سالوں میں پہلی مرتبہ نیب نے بدعنوان عناصر سے پوچھا ہے قانون نے آپکو جو اختیارات دیئے انکا میرٹ اور شفافیت سے عمل درآمد کیوں نہیں ہوا اور عوام کے ٹیکس سے حاصل شدہ رقوم کو دونوں ہاتھوں سے کیوں لوٹا گیا،نیب فیس نہیں کیس کو دیکھتا ہے،نیب کا الیکشن سے کوء تعلق نہیں،نیب کیسامنے صرف اور صرف پاکستان کے مفادات کا تحفظ اور بدعنوانی کا خاتمہ مقصود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کمپنیز سکینڈل میں اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی ہوئی،بدعنوان عناصر کو قانون کیمطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا, ہم نے نیب میں کام،کام اور صرف کام کے کلچر کو فروغ دیا ہے،ہم نے 7 ماہ کے مختصر عرصہ میں ناصرف نیب کی ساخت کو بہتر بنایا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی نیب پر بڑھا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب لاہور کی کارکردگی انتہاء متاثرکن ہے ، 18 ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کرتے ہوئے متاثرین کو لوٹائے ہیں، ملزمان کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا۔

چیئرمین نیب نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی سربراہی میں نیب لاہور کی کارکردگی کو سراہا۔۔چیئرمین نیب نے امید ظاہر کی کہ نیب لاہور میرٹ اور قانون کیمطابق اپنے فرائض سرانجام دیتا رہیگا۔دریں اثناء قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے لاہور نیب کمپلکس کا دورہ کیا اور نیب افسران کے مسائل سنے۔ 2013 سے مستقلی کے منتظر افسران نے چیئرمین کو اپنا مسئلہ بتایا تو جاوید اقبال نے ان کے مسائل جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کچھ لوگ الیکشن سے قبل گرفتار ہوکر سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ نیب سیاستدانوں کو گرفتار کرے تاکہ وہ الیکشن سے قبل سیاسی شہید بن جائیں، تاہم نیب کسی کی خواہش کے مطابق گرفتاریاں نہیں کرتا بلکہ تمام کیسز میں گرفتاریاں میرٹ پر ہوں گی، نیب ہیڈکوارٹر کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی، لیکن زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، بدعنوانی کیخلاف نیب کا بلا تفریق جہاد جاری رہے گا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ لاہور ریجن کی پرفارمنس ہمیشہ کی طرح اچھی رہی، چند لوگوں نے وطیرہ بنا رکھا ہے کہ نوٹس کے باوجود وہ پیش نہیں ہوتے، وقت آنے پر نیب واضح کرے گا کہ ملک میں کتنے اربوں کی کرپشن ہوئی۔