کالا باغ ڈیم ملک کے لئے لازم و ملزم تاہم اسے قومی وحدت کی قیمت پر کسی صورت نہیں بننا چاہیے، شہباز شریف

ہماری حکومت نے کراچی سے دہشت گردی ختم کرنے کا آپریشن شروع کیا جب کہ آج تک کراچی کو معاشی حق نہیں دیا گیا،6ماہ میں کراچی کا کوڑا کرکٹ صاف، تین سال میں گھر گھر پانی دینگے، پبلک ٹرانسپورٹ اور مسائل کے حل کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کرینگے، توانائی بحران کے باعث ملک کی برآمدات کونقصان پہنچ رہاتھا لیکن ہم نے پانچ سال کے دوران بہترین کارکردگی دکھائی اور آج ہم لوڈشیدنگ فری ہوچکے ہیں کاروباری آسانی کے لئے چین اور یورپ کی طرز پر ون ونڈو آپریشن کی سہولت دیں گے،یوٹیلیٹی اداروں کے حوالے سے پارلیمنٹ سے قانون پاس کر کے ون ونڈو سہولتوں کا پابند کریں گے، وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کی تقریب سے خطاب

پیر جون 22:23

کالا باغ ڈیم ملک کے لئے لازم و ملزم تاہم اسے قومی وحدت کی قیمت پر کسی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) مسلم لیگ(ن)کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم ملک کے لئے لازمی و ملزم ہے، لیکن اسے قومی وحدت کی قیمت پر کسی صورت نہیں بننا چاہیے۔ 2013 میں اندرون سندھ میں 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، کراچی میں دہشت گردی، بھتہ مافیا اور بوری بند لاشیں ملنا معمول تھا تاہم ہماری حکومت نے کراچی سے دہشت گردی ختم کرنے کا آپریشن شروع کیا جب کہ آج تک کراچی کو معاشی حق نہیں دیا گیا۔

6ماہ میں کراچی کا کوڑا کرکٹ صاف، تین سال میں گھر گھر پانی دینگے، پبلک ٹرانسپورٹ اور مسائل کے حل کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کرینگے۔ توانائی بحران کے باعث ملک کی برآمدات کونقصان پہنچ رہاتھا لیکن ہم نے پانچ سال کے دوران بہترین کارکردگی دکھائی اور آج ہم لوڈشیدنگ فری ہوچکے ہیں۔

(جاری ہے)

وہ پیر کو وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) میں تقریب سے خطاب کررہے تھے،،شہباز شریف نے کہا کہ فیڈریشن ہائوس آمد میرے لیے بہت فخر کی اور اعزاز کی بات ہے۔

اس سے مجھے پاکستان کی کاروباری اشرافیہ کی پاکستان کی معاشی بہتری کے بارے میں سوچ پتا چلے گی۔ میں یہاں اپنی پانچ سال کی کارکردگی کا جائزہ پیش کروں گا۔فیڈریشن کا تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کرنا بہت اچھا اقدام ہے۔کس پارٹی اور سیاسی قیادت کو ترقی خوشحالی کو آگے لے کر جانا ہے یہ انتخابات میں ووٹ دینے کا واحد پیمانہ ہے دروغ گوئی وقت کا ضیاع ہے بات کھری اور صاف ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ( ن )نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز قائد کے شہر سے کیا ہے۔میں انتخابی امیدوار کی حیثیت میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ضابطہ انتخابی منشور آئندہ ماہ جاری کیا جائے گا۔۔شہباز شریف نے کہا کہ کاروباری آسانی کے لئے چین اور یورپ کی طرز پر ون ونڈو آپریشن کی سہولت دیں گے۔یوٹیلیٹی اداروں کے حوالے سے پارلیمنٹ سے قانون پاس کر کے ون ونڈو سہولتوں کا پابند کریں گے۔

ایکسپورٹ نہ بڑھنے میں اضافی پیداوار کا نہ ہونا سرفہرست وجہ رہی ڈالر کی قدر کا بھی دخل تھا۔ایکسپورٹ ری بجٹ یا ری فنڈز میں تاخیر بھی وجہ بنی اتفاق کرتا ہوں۔کاروباری لاگت میں کمی ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور بڑے پیمانے پر روزگار دینے والی صنعتوں کو ٹیکسوں کا استثنیٰ دیں گے۔انہوںنے کہا کہ 60 فیصد نوجوان آبادی ملک کا سرمایہ لیکن آتش فشاں ہے۔

کشکول قومی جذبوں اور مشکل فیصلوں سے ٹوٹتا ہے۔خسارے میں چلنے والے اداروں کا سرمایہ سماجی بہبود تعلیم اور صحت پر خرچ ہوگا۔ملک بھر میں تکنیکی تربیت کے اداروں کی ضرورت ہے۔ایم اے کی ڈگری کی سماجی روایت ترک کرنا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ 100دن کے وعدے میرے گلے پڑ گئے ہر جگہ تلاشی ہورہی ہے۔زندگی رہی اللہ نے موقع دیا تو ہر تیسرے ماہ کراچی آؤ ںگا تاکہ مسائل حل ہوسکیں۔

ایف بی آر کی ٹیکس وصولی کا فرق ایک ہزار ارب روپے ہے جو کرپشن کی نذر ہورہا ہے۔جواہر لعل نہرو نے بھارت میں ریسرچ کو فروغ دیا، ہم تحقیق پر توجہ دیں گے، یہ انتخابی منشور کا حصہ ہوگا۔انہوںنے کہا کہ کراچی کے چار بڑے ایشوز کو سیاسی جماعتوں سے مل کر حل کریں گے، بجلی اور پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے جتنا بھی پیسہ لگا، ہم لگائیں گے۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی کراچی کے شہریوں کا حق ہے، میٹرو بس اور اورنج لائن لاہور کے بجائے پہلے کراچی میں لگنا چاہیں تھیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2013 میں اندرون سندھ میں 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، کراچی میں دہشت گردی، بھتہ مافیا اور بوری بند لاشیں ملنا معمول تھا تاہم ہماری حکومت نے کراچی سے دہشت گردی ختم کرنے کا آپریشن شروع کیا جب کہ آج تک کراچی کو معاشی حق نہیں دیا گیا۔2013 میں پاکستان کو دو چیلنجز تھے، سب سے بڑا چیلنج لوڈ شیڈنگ تھا، توانائی بحران کے باعث برآمدات کونقصان پہنچ رہاتھا لیکن ہم نے پانچ سال کے دوران بہترین کارکردگی دکھائی اور آج ہم لوڈشیدنگ فری ہوچکے ہیں۔

صدر پاکستان مسلم لیگ (ن)نے کہا کہ جس طرح بجلی کا بحران حل کیا کراچی میں پانی کا بحران بھی ایسے حل ہونا چاہیے، کراچی کو ٹینکر مافیا سے نجات دلانا ہوگی،اگر دوبارہ موقع ملا تو تین سال میں شہر کے ہر گھر میں پینے کا صاف پانی ہوگا، چھ ماہ میں شہر میں کوڑے اور غلاظت کے ڈھیر ختم کرنے ہیں، کراچی کو ایشیا کا نہیں بلکہ ساری دنیا کا مثالی شہر ہونا چاہیے۔

سابق وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ کوئی بلند وبانگ دعوے کرنے نہیں آیا، کراچی کے کھوئے ہوئے مقام کو واپس دلوانے میں اپنا کردار ادا کرینگے، کراچی کے لیے صوبائی فنڈز پر انحصار نہ کیا جائے، صوبائی حکومت کیساتھ وفاقی حکومت کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ ایک بڑا مسئلہ ہے، پبلک ٹرانسپورٹ بھی مہیا کرنا اولین ذمہ داری ہے، جو لاہور میں میٹرو بس بنی پہلے کراچی میں بننی چاہیے تھی، شہر کے پبلک ٹرانسپورٹ، پانی،، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور انفرا اسٹرکچر کو ٹھیک کریں گے کیونکہ اچھے روڈ اور انفرا اسٹرکچر نہیں بنائیں گے تو شہر جام ہو جائے گا، یہ ویڑن(ن) لیگ کا کراچی کے لیے ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کھٹائی میں پڑ گیا، کالاباغ قومی وحدت کو نقصان پہنچاکر نہیں بنایا جاسکتا، ہمیں بھاشا ڈیم کو ترجیح دینا ہوگی، ہم نے 20 سال ضائع کردیئے، یہاں کوئی پوائنٹ اسکورننگ نہیں کررہا اس حمام میں سب ننگے ہیں کیونکہ کسی نے کام نہیں کرنا تھا، سب بہانے ڈھونڈتے رہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بھاشا ڈیم پر توجہ دینا ہوگی، ڈیم کی زمین ڈھونڈی جاچکی ہے اور اس پر 100 ارب کی سرمایہ کردی، پانچ سال میں اس ڈیم کا مکمل ہونا مشکل ہے لیکن اللہ نے موقع دیا تو پانچ سال میں بھاشا ڈیم کو 80 فیصد تک مکمل کردیں گے، اس سے 4 ہزار میگاواٹ سستی بجلی پیدا ہوگی۔

شہبازشریف نے بھارت سے معاشی جنگ جیتنے کے عزم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیں عسکری لڑائی میں شکست نہیں دے سکتا لیکن اب ہمیں اس سے معاشی جنگ لڑنا ہے، بھارت سے ٹیکسٹائل ٹائٹل واپس لانا ہے۔ کراچی میں رینجرز نے عظیم قربانیاں دیں، جس کی وجہ سے امن لوٹ آیا، ملک کے مسائل بیروز گاری ختم کرنے سے کم ہوں گے۔ انہوں نے کہا گیس پلانٹس سے عوام کو سستی بجلی فراہم کی گئی، گیس پلانٹس سے 112 ارب روپے کی بچت ہوئی، سی پیک ن لیگ حکومت کے دور میں آیا، سی پیک پہلے آجاتا اگر 6 مہینے دھرنے نہ ہوتے۔

انھوں نے کہا کہ عقل کا اندھا بھی جواب دے سکتا ہے، دھرنوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، دھرنے کی وجہ سے کئی پروجیکٹس تاخیر کا شکار ہوئے، جو منصوبے 2014میں شروع ہونے تھے تاخیر کا شکارہوئے، منصوبوں میں تاخیر کی بڑی وجہ اسلام آبادمیں دھرنے تھے، چین کے صدر کو دھرنوں کی وجہ سے اپنا دورہ ملتوی کرنا پڑا، تمام صورتحال کے باوجود ہم نے دن رات محنت کی۔

ایک نہیں10 منصوبے گنوا سکتا ہوں جن پر توجہ دی گئی، ایسے کئی منصوبے ہیں، جن پرخصوصی توجہ دی اور انہیں مکمل کیا۔انہو ں نے کہا کہ ایک دھیلہ کرپشن دورکی بات ہے،منصوبے چیک کراسکتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ یہ کہنے نہیں آیا مسلم لیگ ن کو ووٹ دیں، جن کو ووٹ دیں ان سے پوچھیں کام کیا ہے یا نہیں۔اس سے قبل کراچی پہنچنے پر رانا مشہود اور سلیم ضیا سمیت دیگر نے شہبازشریف کو خوش آمدید کہا اور پارٹی کارکنان نے اپنے صدر کا پرجوش استقبال کیا، سابق وزیراعلی پنجاب اور مسلم لیگ(ن) کے صدر شہبازشریف کراچی میں دو روز قیام کریں گے۔

صدر ایف پی سی سی آئی غضنفر علی بلور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں۔وزیر اعلی پنجاب کی حیثیت سے اپ کی خدمات قابل تعریف ہیں۔۔شہباز شریف کی قیادت میں پنجاب نے ترقی میں دیگر صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔سابقہ حکومت نے گزشتہ انتخابات میں کیے گئے متعدد وعدے اورپراجیکٹ پورے کیے ہیں۔پراجیکٹ مکمل یا شروع ہوچکے ہیں، سی پیک منصوبہ سب سے ایم پیش رفت ہے۔

معیشت کو قرض پر انحصار کم کرکے خودانحصاری کی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے بزنس کمیونٹی ناراض ہے۔انہوںنے ریفنڈز کی ادائیگیوں کا وعدہ پورا نہیں کیا۔سابقہ حکومت میں ڈالر کی قدر کو مصنوعی پور پر کنٹرول نہ کیا جاتا تو ایکسپورٹ میں اضافہ ہوتا۔سینئر نائب صدر ایف پی سی سی ائی مظہر علی ناصر نے کہا کہ شہباز شریف کی ایئرپورٹ سے سیدھے ایف پی سی سی آئی امد ان کی پالیسی میں معیشت کو دی جانے والی اہمیت کی مظہر ہے۔

ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا ہے کہ اکر معاشی منشور بزنس کمیونٹی کے سامنے پیش کریں۔کاروباری لاگت میں کمی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔لاگت کم کئے بغیر برامدات میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔لاگت میں کمی کے ساتھ کاروبار کو آسان بناناضروری ہے۔۔پاکستان میں نیا کاروبار کرنے والوں کو کاروبار کے لئے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔چھوٹے شہروں میں سخت کاروباری مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوںنے کہا کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے سرمائے کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو بحال اور منافع بخش بنانے کے لیے ن لیگ کا پلان سامنے لایا جائے۔۔کراچی سے کاروباری شخصیات کو انتخابات میں ٹکٹ دینے کا اقدام قابل تعریف ہے۔سیاسی جماعتوں میں کاروباری شخصیات ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔#