حکومت افغانستان سے تحریک طالبان کے نئے امیر مفتی نور ولی اور خودکش حملہ آور اکرام اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کرے،سینیٹر رحمان ملک

پیر جون 22:32

حکومت افغانستان سے تحریک طالبان کے نئے امیر مفتی نور ولی اور خودکش ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ حکومت ا فغانستان سے تحریک طالبان کے نئے امیر مفتی نور ولی اور خودکش حملہ آور اکرام اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کرے ۔ ایک بیان میں سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کے نئے امیر مفتی نور ولی اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید حملے کا دوسرا خودکش اکرام اللہ افغانستان میں روپوش ہیں۔

مفتی نور ولی نے کچھ ماہ پہلے انقلاب محسود جنوبی وزیرستان نامی ایک کتاب لکھی ہے۔ مفتی نور ولی نے اپنی کتاب میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مفتی نور ولی نے اپنی کتاب میں دوسرے خودکش حملہ آور اکرام اللہ کا ذکر کیا ہے۔ مفتی نور ولی نے کہا کہ اکرام اللہ شہید بینظیر بھٹو پر حملہ کرنے والا دوسرا خودکش بمبار ہے۔

(جاری ہے)

مفتی نور ولی نے اپنی کتاب میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو پر دونوں حملوں کا ذکر کیا ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ حکومت پاکستان افغانی حکومت سے مفتی نور ولی اور اکرام اللہ کے حوالگی کا مطالبہ کرے۔ پہلے بھی دو خطوط وزارت داخلہ کو بھیج چکا ہوں کہ اکرام اللہ و مفتی نور ولی کی حوالگی کا مطالبہ کیا جائے۔ حکومت سے اپیل ہے کہ معاملہ جلد از جلد حکومت افغانستان کیساتھ اٹھا ئے۔

آفغانی صدر اشرف غنی سے اپیل ہے کہ وہ طالبان رہنمائ مفتی نور ولی اور اکرام اللہ کو جلد پاکستان کے حوالے کریں۔ مفتی نور ولی اور اکرام اللہ کی حوالگی سے محترمہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوگی۔ ایف آئی اے پہلے ہی اکرام اللہ کو بچ جانے والے دوسرے خودکش حملہ آور کی طور پر شناخت کر چکی تھی۔ دوسرا خوکش حملہ اور اکرام اللہ کو عدالت اشتہاری قرار دے چکا ہے۔۔طارق ورک