جانتے بوجھتے ملک کو کرپٹ لوگوں کے حوالے کرنا خود کشی ہوگی ، پاکستان کو اس وقت بیرونی دشمنوں کی طرح اندرونی طور پر بھی آستین کے سانپوں نے گھیر رکھاہے ، کرپٹ اور بد دیانت عناصر ملکی استحکام کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں ، ان لوگوں نے بیرونی ایجنڈے پر قومی اداروں ، سیاست ، جمہوریت اور ملکی جغرافیہ کو تباہی سے دوچار کیا

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا اپنے حلقہ انتخاب میں مرکزی الیکشن آفس کے افتتاح پر جلسہ سے خطاب

پیر جون 23:28

صوابی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ جانتے بوجھتے ملک کو کرپٹ لوگوں کے حوالے کرنا خود کشی ہوگی ، پاکستان کو اس وقت بیرونی دشمنوں کی طرح اندرونی طور پر بھی آستین کے سانپوں نے گھیر رکھاہے ، کرپٹ اور بد دیانت عناصر ملکی استحکام کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں ، ان لوگوں نے بیرونی ایجنڈے پر قومی اداروں ، سیاست ، جمہوریت اور ملکی جغرافیہ کو تباہی سے دوچار کیا۔

وہ پیر کو اپنے آبائی گائوں مسکینی اور حلقہ انتخاب میں مرکزی الیکشن آفس کے افتتاح کے موقع پر جلسہ سے خطاب کر رہے تھے ۔ قبل ازیں دفتر کے افتتاح کے لیے جب سراج الحق اپنے گائوں مسکینی پہنچے تو پورے گائوں کے لوگوں نے ان کا شاندار استقبال کیا ۔ انہیں پھولوں کے ہار پہنائے اور قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں ۔

(جاری ہے)

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے دینی قیادت وجماعتوں کا اتحاد وقت کی آواز ہے ۔

انہوںنے کہاکہ خیبر پی کے بدامنی سے سب سے زیادہ متاثر ہواہے لیکن مرکزی حکومت نے صوبے کے عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا ۔ جماعت اسلامی صوبائی حقوق کے لیے ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی اور ہم اپنے اس فرض کو آئندہ بھی ادا کرتے رہیں گے مگر وفاق نے خیبر پختونخوا کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں کا سلوک کیا ۔ انہوں نے کہاکہ اب عوام بیدار ہیں ، وہ اپنے ووٹ کی قوت سے حالات تبدیل کریں گے ۔

انہوںنے کہاکہ وفاق اور صوبوں میں د یانتدار قیادت کے انتخاب سے ہی پاکستان کو ایک ویلفیئر اسلامی ریاست بنایا جاسکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کا منشور ویلفیئر اسلامی پاکستان کا بہترین ایجنڈا ہے ملکی مسائل کا حل صرف اسلام کے عادلانہ نظام میں ہے ۔ ملک میں شریعت کے نفاذ سے عوام کے اندر خوشی اور اطمینان کی ایک لہر دوڑ جائے گی ۔

ہم سودی نظام ختم کر کے زکوة و عشر کا پاکیزہ معاشی نظام دیں گے ۔ ٹیکسوں کا بالواسطہ نظام ختم کر کے براہ راست ٹیکس کا نظام رائج کریں گے تاکہ غریب کو امیروں کے برابر ٹیکس نہ دینا پڑے اور عام آدمی کو ٹیکس کے بوجھ تلے سے نکالا جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ ہم وسائل کی مساویانہ تقسیم کو یقینی بنائیں گے اور تعلیم ، صحت اور روزگار کی سہولتیں ہر فرد تک پہنچائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی تک ریاست کی طرف سے بے روزگاری الائونس دیا جائے گا ۔ انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل مشر ق ومغرب کی بجائے مدینہ کی اسلامی ریاست کو اپنے لیے نمونہ سمجھتی ہے اور ہم اقتدار میں آکر خلافت راشدہ ؓ کے نظام کو اختیار کریں گے ۔
جانتے بوجھتے ملک کو کرپٹ لوگوں کے حوالے کرنا خود کشی ہوگی ، پاکستان ..