نواز شریف اور مریم نواز مائنس فارمولا سے متعلق خبریں گردش

لندن میں مقیم نواز شریف اور مریم نواز نے اس قسم کی خبروں پر سخت ناراضی کا اظہار کر دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل جون 11:26

نواز شریف اور مریم نواز مائنس فارمولا سے متعلق خبریں گردش
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 جون 2018ء) : نواز شریف اور مریم نواز کو مائنس کرنے کے ایجنڈے سے متعلق خبروں پر نواز شریف اور مریم نواز نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم میں سابق وزیرا عظم نوازشریف بیانیہ پر بھی مکمل خاموشی ہے۔ کراچی سے انتخابی مہم شروع کرنے کے باوجود نوازشریف کے بیانیے کا اس میں تذکرہ نہ کرنے پر قائد مسلم لیگ ن نوازشریف اور مریم نواز سخت نالاں ہیں ۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ن لیگی قیادت کو واضح طور پر پیغام دے دیا گیا ہے کہ مائنس ڈیل کرنے یا کوئی ایسی ڈیل جس میں ہمارا بیانیہ نہ ہو اس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔ نوازشریف نے لندن سے ہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کے خلاف دوبارہ سے سخت رویہ رکھنے اور بیانات دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ پاکستان میں اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی اس حوالے سے ہدایات جاری کر دی ہیں۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ ن اور شریف خاندان کے با وثوق ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے نوازشریف اور شہباز شریف میں ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا اور نوازشریف نے پارٹی صدر شہباز شریف کو بھی واضح ہدایات دی ہیں کہ جو فیصلہ کیا گیا تھا الیکشن مہم کو اسی طرز پر چلایا جائے ، اور بیانیے سے نہ ہٹا جائے۔ با وثوق ذرائع کے مطابق قائد مسلم لیگ ن میاں نوازشریف کو ان کے قریبی ساتھیوں نے یہ اطلاع دی تھی کہ الیکشن مہم میں اس طرح کا تاثر دیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن نواز شریف کے بغیر ہی یہ الیکشن لڑے گی۔

پاکستان سے موصول ہونے والی ان اطلاعات پر نوازشریف نے سخت رد عمل اور ناراضی کا اظہار کیا اور پاکستان میں اپنے قریبی ساتھیوں کو فون کر کے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ میں لندن میں پریشانی میں بیٹھا ہوں اور آ پ لوگ پیچھے سے سب کچھ بھول گئے ہیں، نواز شریف نے اپنی قریبی ساتھیوں سے کہا کہ یہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف نے واضح طور پر کہا کہ جو فیصلہ کیا گیا تھا کہ ووٹ کو عزت دو، اسی نعرے کو مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کا حصہ بنایا جائے اور جو اس پر عمل نہیں کرے گا وہ ہمارا ساتھی نہیں ہے ۔

نواز شریف نے این اے 125 میں بھی ن لیگ کے گروپوں میں اختلافات کو مریم نواز کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر مقامی قیادت نے خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟ اختلافات ابھی تک ختم کیوں نہیں کروائے گئے؟ اس ضمن میں قائد مسلم لیگ ن نوازشریف اور پارٹی صدر شہباز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا جس میں نواز شریف نے جہاں شہباز شریف کو کراچی سے الیکشن مہم شروع کرنے پر مبارکباد دی وہیں انہوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آ پ کی الیکشن مہم کے آغاز میں ہمارا بیانیہ کہاں تھا ؟ اور یہ جو مائنس والا پراپیگنڈہ ہو رہا ہے اس تاثر کو ختم کیا جائے ۔

کچھ با وثوق ذرائع نے بتایا کہ چودھری نثار کے مقابلے میں ن لیگ کے اُمیدوار قمر اسلام کی گرفتاری پر بھی نوازشریف نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور شہباز شریف سمیت اہم رہنمائوں کو ہدایت کی ہے کہ اس پر سٹینڈ لیں اور نیب اور دیگر اداروں کے خلاف مہم بنائیں تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے اور ہمارے مزید ساتھیوں کے خلاف کارروائی نہ ہو سکے ۔