دُبئی: پاکستانی ماں بیٹا ہیروئن اسمگل کرنے کے الزام میں عدالت میں پیش

ملزمان نے ٹریول ایجنٹ کو موردِ الزام ٹھہرا دِیا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 11:40

دُبئی( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26جُون 2018ء) ہیروئن کے مقدمے میں گرفتار پاکستانی ماں بیٹے نے عدالت میں جرح کے دوران ٹریول ایجنٹ کو اپنی مصیبتوں کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹریول ایجنٹ نے اُنہیں ایک بیگ امارات میں موجود کسی شخص کو پہنچانے کے لیے دِیا تھا جس کے خفیہ خانوں میں ہیروئن بھری ہوئی تھی ۔ تفصیلات کے مطابق اپریل2018ء میں 50 سالہ پاکستانی خاتون اور اس کے23 سالہ بیٹے کو دُبئی ایئر پورٹ پر موجود کسٹم اہلکاروں نے روک کر اُن کے پاس موجود ایک بیگ کے خفیہ خانوں سے1.2 کلو گرام ہیروئن برآمد کی تھی۔

استغاثہ کی جانب سے ملزمہ اور اُس کے بیٹے پر ہیروئن رکھنے اور سمگل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ملزمان نے عدالت میں اپنے خلاف الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے رونا شروع کر دیا اور اپنی بے گناہی کی دُہائیاں دیتے رہے۔

(جاری ہے)

ملزم بیٹے کا کہنا تھا ’’ہمیں نہیں پتا تھا کہ اس بیگ میں منشیات رکھی ہوئی ہے۔ ہم نے اپنے ٹکٹس پاکستان میں موجود ایک ٹریول ایجنٹ سے خریدے تھے جس نے ہم سے کہا تھا کہ ہمارے بیگ میں پُورا سامان نہیں سما سکتا‘ اس لیے میرے پاس ایک بڑا بیگ موجود ہے‘ وہ لے جاؤ۔

جس پر ہم نے اپنا سامان اُس کے دیئے گئے بیگ میں ڈال لیا۔ ہمیں اس بیگ میں موجود منشیات کا اُس وقت پتا چلا جب ہمیں ایئرپورٹ پر روک کر اس کی تلاشی لی گئی۔ ہمیں ایجنٹ کی نیت پر ذرا بھی شک نہیں ہوا کیونکہ اُس نے دُبئی میں موجود ایک شخص کو میری ملازمت کا کہہ کر ہمارا اعتماد جیت لیا تھا۔ جب ہمیں یہ بیگ دیا گیا تو ہمارے علم میں قطعاً نہیں تھا کہ اس کے خفیہ خانوں میں ہیروئن بھری ہوئی ہے۔

ملزمان کو گرفتار کرنے والے کسٹم انسپکٹر نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ خاتون کے بیگ کی تلاش لینے پر اس میں موجود خفیہ خانوں سے ہیروئن برآمد ہوئی۔ جس پر خاتون سے تفتیش کی گئی تو اس نے بتایا کہ پاکستان میں موجود ایک افغانی باشندے نے اُسے آٹھ سو اماراتی درہم کے علاوہ ٹکٹیں خرید کر دی تھیں اور بدلے میں تقاضا کیا تھا کہ بیگ دُبئی میں موجود ایک شخص کو پہنچا دیا جائے۔ایئرپورٹ پر گرفتاری کے وقت ملزمان کے ڈرگ ٹیسٹ میں رپورٹ نفی میں آئی تھی۔ عدالت کی طرف سے مقدمے کا فیصلہ 25 جولائی 2018ء کو سُنایا جائے گا۔