حریف طاقتوں میں اختلافات مشرق وسطی کو بڑے تنازع میں دھکیل سکتا ہے، ملیحہ لودھی

کثیر الجہتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے، مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو عالمی برادری کے سامنے روندا جارہا ہے،یمن میں 22 ملین افراد کو درپیش صورتحال مسئلے کے سیاسی حل کا تقاضہ کرتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا سلامتی کونسل میں خطاب

منگل جون 11:50

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ اہم علاقائی و حریف طاقتوں میں اختلافات مشرق وسطی کو بڑے تنازع میں دھکیل سکتا ہے،کثیر الجہتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے، فلسطین کے معاملے پر دو ریاستی حل کو عالمی برادری کے سامنے روندا جارہا ہے،،یمن میں 22 ملین افراد کو درپیش صورتحال مسئلے کے سیاسی حل کا تقاضہ کرتی ہے۔

سلامتی کونسل میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ پر بحث کے دوران پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کی سیاست سے مشرق وسطی کا تنازعہ پھیل سکتا ہے جہاں کثیر الجہتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

ملیحہ لودھی نے کہا کہ یک طرفہ اقدامات اور غلط اندازے خطے کے عوام کے لیے مشکلات ہی لاتے ہیں، مشرق وسطی میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ فلسطین کا مسئلہ حل نہ ہونا ہے۔

انہوں نے کہاکہ فلسطین کے معاملے پر دو ریاستی حل کو عالمی برادری کے سامنے روندا جارہا ہے اور سلامتی کونسل کے ایکشن نہ لینے سے صورتحال بدتر ہوئی۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ مشرق وسطی میں امن کا راستہ مسئلہ فلسطین کے حل میں ہے، یمن میں 22 ملین افراد کو درپیش صورتحال مسئلے کے سیاسی حل کا تقاضہ کرتی ہے۔