الیکشن ٹریبونلز نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان سمیت خواجہ آصف اور فردوس عاشق کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی

شاہد خاقان عباسی این اے 53 ‘ خواجہ آصف کو این اے 73 اور فردوس عاشق کو این اے 72 سے انتخابی میدان میں اتریں گے ‘تیاریاں ز ور و شور سے جای

منگل جون 11:50

اسلام آباد/سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) الیکشن ٹریبونلز نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،، (ن)لیگی امیدوار سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف اور پی ٹی آئی کی رہنما فردوس عاشق اعوان کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو این ای53سے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر سابق وزیراعظم ذاتی حیثیت میں ٹربیونل کے سامنے پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ آر او نے حقائق کے برعکس میرے کاغذات نامزدگی مسترد کئے۔۔عدالت نے این اے 53کے آر او کا فیصلہ کالعد م قرار دیتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی پر کاغذنامزدگی درست طریقے سے پر نہ کرنے کا اعتراض تھا۔

اور اب این اے 53سے شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہوں گے۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس سید شہباز رضوی پر مشتمل ایپلٹ ٹریبونل نے خواجہ آصف اور فردوس عاشق اعوان کے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ ایپلٹ ٹریبونل نے سیالکوٹ کے حلقہ این اے 73 سے (ن)لیگ کے امیدوار خواجہ آصف کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔

ٹریبونل نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کر دیا جس میں خواجہ آصف کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔یاد رہے کہ قومی اسمبلی کی نشست این اے 73 سیالکوٹ ٹو پر خواجہ آصف کا مقابلہ تحریک انصاف کے امیدوار عثمان ڈار سے ہوگا۔ہائیکورٹ کے ایپلٹ ٹریبونل نے تحریک انصاف کی امیدوار فردوس عاشق اعوان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف بھی اپیل مسترد کردی۔

جسٹس سید شہباز رضوی نے این اے 72 سیالکوٹ ون سے ووٹر زید لطیف کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ریٹرننگ افسر نے پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات نامزدگی قانون کے مطابق منظور کیے۔درخواست گزار کا مقف تھا کہ فردوس عاشق اعوان نے کاغذات نامزدگی میں شادی اور بچوں کاخانہ پر نہیں کیا اس لیے ان کے نامزدگی فارم مسترد کیے جائیں۔