یورپین یونین نے بھی میانمارکے جنرل سمیت سات فوجیوں پر پابندی عائد کردی

میجر جنرل موانگ موانگ سو نے روہنگیا اقلیتوں پر ظلم اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کی،یورپی اعلامیہ

منگل جون 11:50

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) یورپین یونین نے سات لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو جبری طور پر بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور کرنے والے میانمار کے جنرل سمیت سات فوجی افسران پر بیرون ملک سفری پابندی عائد اور ان کے اثاثے منجمد کردیئے۔ میانمار کے سات فوجی افسران میں جنرل بھی شامل ہیں جن پر یورپین یونین کے سفر پابندی ہوگی۔علاوہ ازیں میانمار فوج کے ساتھ ہر قسم کا عسکری تعاون بھی ختم کردیا جائیگا جبکہ ان کی فوجی ٹریننگ بھی پابندی کی زد میں آگئی۔

امریکا نے برمی فوج کے مغربی کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل موانگ موانگ سو پر پابندی عائد کی، جن کی سربراہی میں اگست 2017 میں مسلمانوں کے خلاف خونریز کارروائیاں کی گئیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یورپین یونین کے اعلامیے میں کہاگیاکہ میجر جنرل موانگ موانگ سو نے اپنے دور میں رخائن رہاست میں روہنگیا اقلیتوں پر ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔

(جاری ہے)

یورپین یونین نے کمانڈر ٹھنڈ زن پر روہنگیا مسلمانوں کے گھر اور بلڈنگ کو نذر آتش کیا اور منصوبہ بندی کے تحت ان کا قتل عام کیا۔پابندی کی زد میں آنے والے دیگر 5 فوجی افسران جرنیل کے عہدے پر فائز ہیں۔خیال رہے کہ رواں برس فروری میں کینیڈا نے بھی میانمار کے فوجی جرنیلوں پر پابندی لگائی تھی۔۔کینیڈا نے پابندی اس وقت لگائی جب ان دن نامی گاؤں میں روہنگیا بدمت کے پیروکار اور فوجیوں نے 10 مسلمان مردوں اور لڑکوں کو بڑی سفاکی سے قتل کردیا تھا۔